Home » مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت کا شہباز شریف نے خیر مقدم کر دیا،خطے کے دفاع کیلئے مشترکہ کردار کا عزم

مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کی حمایت کا شہباز شریف نے خیر مقدم کر دیا،خطے کے دفاع کیلئے مشترکہ کردار کا عزم

by ahmedportugal
22 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت بھرے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے حوصلہ افزا کلمات پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر نہ صرف اپنے برادر ممالک بلکہ پورے خطے کے دفاع اور امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پیغام میں شہباز شریف نے کہا کہ وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت بھرے اور حوصلہ افزا کلمات کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں۔ امریکی صدر نے معاہدے کو ایک اہم اور جرات مندانہ قدم قرار دیا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان برادر ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والا معاہدہ باہمی تعاون،مشترکہ سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی ایشیا میں ایک ممکنہ جوہری تباہی کو روکنے اور لاکھوں جانوں کو بچانے میں مدد دی۔وزیراعظم نے اس کردار کو خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پائیدار امن عوام کے روشن،محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے بنیادی شرط ہے۔ان کے مطابق پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں امن،استحکام اور علاقائی تعاون کو اہمیت حاصل رہے گی۔

یاد رہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔معاہدے کے مرکزی اصول کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جبکہ معاہدے میں دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کا فریم ورک بھی شامل ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے ایک ”بڑا، جرات مندانہ اور اہم ابتدائی قدم“ قرار دیا ہے۔تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ اس کے تحت دفاعی تعاون،سیاسی و عسکری رابطہ کاری اور مشترکہ سلامتی کے طریقہ کار کو مزید منظم بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوان اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے اور مصر بھی مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتا ہے۔اس پیش رفت نے مکہ دفاعی معاہدے کے ممکنہ وسیع تر علاقائی کردار کے حوالے سے بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کو محض تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے علاقائی امن،مشترکہ سلامتی اور برادر ممالک کے تحفظ کے لیے ایک اہم سفارتی و دفاعی فریم ورک کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز