اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی قیادت کی سلامتی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر شرکا کی محفوظ رہنا خوش آئند ہے جبکہ اس افسوسناک واقعے پر ان کی دعائیں اور نیک تمنائیں متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاوس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر)پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والا یہ واقعہ نہایت تشویشناک ہے اور اس نے سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف متعلقہ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول ملانیا ٹرمپ اور تقریب میں شریک دیگر افراد اس واقعے میں محفوظ رہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ان کی دعائیں اور نیک تمنائیں صدر ٹرمپ اور تمام شرکاء کے ساتھ ہیں اور وہ ان کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں ہونے والے اس واقعے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس کی شناخت بھی سامنے آ چکی ہے، جبکہ اس کے ممکنہ محرکات اور پس منظر کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق اس قسم کے واقعات پر عالمی رہنماوں کی جانب سے فوری ردعمل اور یکجہتی کا اظہار بین الاقوامی تعلقات میں اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً ایسے مواقع پر جب کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کو خطرہ لاحق ہو۔ وزیراعظم شہباز شریف کا بیان بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف ہمدردی بلکہ سفارتی سطح پر حمایت کا اظہار ہے۔ادھر امریکی سیکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلووں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کو مزید سخت بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔