Home » شرمیلا ٹیگور نے اسلام قبول کیا تھا،بچوں کی بھی مذہبی تربیت کی،بیٹی صبا پٹودی کا بڑا انکشاف

شرمیلا ٹیگور نے اسلام قبول کیا تھا،بچوں کی بھی مذہبی تربیت کی،بیٹی صبا پٹودی کا بڑا انکشاف

by ahmedportugal
20 views
A+A-
Reset

ممبئی(ایگزو نیوز ڈیسک)بالی ووڈ کے معروف پٹودی خاندان کے مذہبی ماحول سے متعلق طویل عرصے سے مختلف سوالات کیے جاتے رہے ہیں تاہم اب اداکارہ صبا علی پٹودی نے اپنی والدہ شرمیلا ٹیگور کے قبولِ اسلام، بچوں کی مذہبی تربیت اور گھر میں مختلف مذاہب کے احترام کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں صبا پٹودی نے بتایا کہ ان کا مذہب اسلام ہے اور وہ اس سے دلی وابستگی رکھتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اسی نام سے خدا کو پکارتی ہیں تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتیں۔صبا کے مطابق ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور نے سابق بھارتی کرکٹر اور پٹودی خاندان کے سربراہ منصور علی خان پٹودی سے شادی کے لیے اسلام قبول کیا تھا اور بعد ازاں ان کے بچوں کو بھی اسلام اور مذہبی تعلیمات سے روشناس کرایا۔اس حوالے سے صبا نے کہا کہ ان کی والدہ نے انہیں مذہب کے بارے میں رہنمائی اس لیے دی تاکہ بچوں کو اپنی مذہبی شناخت کے حوالے سے بنیادی سمجھ حاصل ہو۔شرمیلا ٹیگور اور منصور علی خان پٹودی کی شادی 1968 میں ہوئی تھی۔بعد میں شرمیلا ٹیگور نے اپنے ایک پرانے انٹرویو میں بھی بتایا تھا کہ شادی سے قبل اسلام قبول کرنا ان کے لیے ایک ایسا فیصلہ تھا جس پر انہوں نے سنجیدگی سے غور کیا۔انہوں نے اس تجربے کو نہ مکمل طور پر آسان اور نہ انتہائی مشکل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس عمل کے دوران انہیں ہندو مت اور اسلام دونوں کو مزید سمجھنے کا موقع ملا۔

صبا پٹودی نے اپنے انٹرویو میں گھر کے مذہبی ماحول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں ہندو مذہب کی باقاعدہ مذہبی رسومات کا اہتمام نہیں کیا جاتا تھا تاہم ان کی والدہ نے انہیں اسلام،رمضان اور دیگر مذہبی امور سے آگاہ کیا۔ان کے مطابق بعد میں یہ ہر فرد کی اپنی مرضی تھی کہ وہ اپنی زندگی میں مذہب کو کس انداز میں اختیار کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کے والدین نے کسی مذہب کو بچوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا۔صبا کے مطابق خاندان میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا احترام موجود رہا اور بچپن میں عید کے ساتھ کرسمس،دیوالی اور ہولی جیسے تہوار بھی مل جل کر منائے جاتے تھے۔صبا نے مذہبی معاملات کو ذاتی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ہر انسان کا اپنا معاملہ ہے اور اسے کسی دوسرے شخص پر زبردستی نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ان کے مطابق پٹودی خاندان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان شادیاں بھی ہوئیں اور خاندان میں مذہب کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کرنے کی روایت نہیں رہی۔

شرمیلا ٹیگور کے قبولِ اسلام سے متعلق اس خاندان کی تاریخ پر اس سے قبل صبا کی بہن سوہا علی خان بھی بات کرچکی ہیں۔سوہا نے 2025 میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کی والدہ نے منصور علی خان پٹودی سے شادی سے قبل اسلام قبول کیا تھا اور ”عائشہ“ نام اختیار کیا تھا۔ان کے مطابق پیشہ ورانہ طور پر وہ مسلسل شرمیلا ٹیگور کے نام سے جانی جاتی رہیں تاہم عائشہ بھی ان کا اسلامی نام تھا۔شادی کے حوالے سے خود شرمیلا ٹیگور کے پرانے بیان بھی سامنے آچکے ہیں،جن میں انہوں نے بتایا تھا کہ منصور علی خان پٹودی نے ان کے لیے ”عائشہ“ نام تجویز کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام قبول کرنے کے عمل نے انہیں دونوں مذاہب کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیا۔ پٹودی خاندان کے بین المذاہب خاندانی روابط بھی طویل عرصے سے عوامی دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔

صبا کے بھائی سیف علی خان کی پہلی شادی اداکارہ امرتا سنگھ اور دوسری شادی اداکارہ کرینہ کپور سے ہوئی جبکہ ان کی بہن سوہا علی خان نے اداکار کنال کیمو سے شادی کی۔ اس طرح خاندان میں مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد کے درمیان ازدواجی تعلقات بھی قائم ہوئے۔سیف علی خان بھی ماضی میں اپنے بچوں کے ساتھ مذہب کے موضوع پر گفتگو کے حوالے سے بتا چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی والدہ سے حاصل ہونے والی تعلیمات اپنے بچوں تک منتقل کیں اور خدا کے تصور کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ان کے مطابق کرینہ کپور اور ان کی والدہ دونوں مذہب کے معاملے میں کشادہ ذہن رکھتی ہیں۔

شرمیلا ٹیگور اور منصور علی خان پٹودی کی بین المذاہب شادی اپنے دور میں خاصی توجہ کا مرکز بنی تھی۔دونوں نے 1968 میں شادی کی تھی اور اس وقت مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے جوڑے کی شادی کو معاشرتی سطح پر خاصی بحث کا سامنا بھی رہا۔شرمیلا ٹیگور نے بعد میں انکشاف کیا تھا کہ شادی کے موقع پر دونوں خاندانوں کو دھمکی آمیز پیغامات بھی موصول ہوئے تھے تاہم شادی بخیریت مکمل ہوئی۔صبا پٹودی کے حالیہ بیان نے ایک مرتبہ پھر پٹودی خاندان کے نجی مذہبی ماحول کو عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے تاہم ان کی گفتگو کا بنیادی پیغام مذہبی شناخت کے ساتھ ساتھ باہمی احترام،ذاتی انتخاب اور مختلف مذاہب کے درمیان برداشت پر مبنی رہا۔یوں پٹودی خاندان کی مذہبی تاریخ میں شرمیلا ٹیگور کا اسلام قبول کرنا ایک اہم واقعہ ضرور رہا لیکن خاندان کی موجودہ نسل کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مذہبی شناخت کو ذاتی معاملہ سمجھنے اور مختلف عقائد کے احترام کو بھی خاندانی تربیت کا اہم حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز