اس عہدِ ہنگامہ خیزی میں،جہاں نیکی بھی مائیک مانگتی ہے اور خیرات بھی کیمرے کی محتاج ہو چکی ہے،وہاں خاموش بھلائی کسی معجزے سے کم نہیں لگتی۔۔۔آج کے دور میں جب فلاح کے نام پر اکثر شور،بینرز،کیمرے اور تشہیر کا ہجوم دکھائی دیتا ہے تو دل بے اختیار سوال کرتا ہے کہ کیا نیکی بھی اب اشتہار کی محتاج ہو گئی ہے؟آج فلاحی سرگرمیوں کے نام پر اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک میلہ لگا ہو،جہاں غریب کی مجبوری کم اور صاحب حیثیت کی تشہیر زیادہ نظر آتی ہے۔۔۔ چمچماتے سٹیج،دعوے اور سوشل میڈیا کی چکاچوند میں اصل مقصد کہیں دھندلا سا ہو گیا ہے مگر ایسے شور میں اگر کہیں خاموشی بولتی نظر آئے تو وہ خاموشی دل کے سب سے گہرے حصے کو چھو لیتی ہے۔۔۔ اگر کہیں خاموشی سے جلتا ہوا ایک چراغ دکھائی دے تو آنکھ ٹھہر جاتی اور دل سجدہ شکر میں جھک جاتا ہے۔۔ یہی وہ خاموش چراغ ہے جو گلزارِ مدینہ ویلفیئر ٹرسٹ کی صورت میں روشن ہے،جس کی روشنی نہ فلیکس پر لکھی گئی،نہ سوشل میڈیا کے نعروں میں گم ہوئی بلکہ براہِ راست ٹوٹے دلوں،بھوکے پیٹوں اور نم آنکھوں تک پہنچی۔۔۔۔۔۔یہ خاموشی گلزارِ مدینہ ویلفیئر ٹرسٹ کی پہچان ہے۔۔۔یہ وہ خدمت ہے جو اشتہار نہیں بنتی،وہ نیکی جو تصویر نہیں کھنچواتی،وہ خیر جو خود کو چھپانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔۔۔
فرخ بیگ ۔۔۔ ایک ایسا شخص جسے اگر چاہے تو دنیا پہچان لے مگر جس نے دنیا سے پہچانے جانے کے بجائے رب کے ہاں پہچانے جانے کو ترجیح دی۔۔۔ایک ایسا نام جو شاید اخبارات کی شہ سرخیوں میں کم آئے مگر عرش پر ضرور لکھا جا رہا ہو گا۔۔۔ ایک کامیاب بزنس مین مگر دل میں دنیا نہیں بلکہ انسان بسا ہوا ہے۔نہ شہرت کی خواہش،نہ داد کی طلب،بس ایک خاموش سفر جو رب کی رضا کی سمت رواں ہے۔۔۔ ان کے ہم قدم ان کا اکلوتا بیٹا فراز بیگ ہے جو اس بات کی زندہ مثال ہے کہ اگر تربیت صالح ہو تو نسلیں صدقہ جاریہ بن جاتی ہیں ۔۔۔ ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے باوجود ان کا دل دولت کے انبار میں نہیں،انسانوں کے درد میں دھڑکتا ہے۔ نہ وہ تقریریں کرتے ہیں،نہ تصویریں لگواتے ہیں، نہ کسی ”سیٹھ کلچر“ کا حصہ بنتے ہیں ۔۔۔ ان کی پہچان صرف ایک ہے،خدمت، وہ بھی خالص خدمت ۔۔۔ اور اس خدمت کا تسلسل ان کے اکلوتے بیٹے فراز بیگ میں یوں منتقل ہوا ہے جیسے ایک شمع سے دوسری شمع جلائی گئی ہو۔۔۔روشنی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھ گئی ۔۔۔ باپ اور بیٹا، چند مخلص دوستوں کے ساتھ، برسوں سے یہ بوجھ نہیں بلکہ سعادت اٹھائے ہوئے ہیں کہ کسی کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔۔۔
۔مدینہ منورہ کی گلیوں سے لے کر استنبول کی فضاوں تک اور لاہور کی گنجان بستیوں سے پاکستان کے دور دراز شہروں تک،گلزارِ مدینہ کے دست کرم کے نشان بکھرے ہوئے ہیں۔۔۔ کہیں یتیم بچوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ ہے،کہیں بوڑھی آنکھوں کے لیے سٹیٹ آف دی آرٹ اولڈ ایج ہوم،جہاں عمر کے آخری حصے میں تنہائی نہیں، عزت ملتی ہے۔۔۔ استنبول کی فضاوں میں اگر کہیں کسی یتیم بچے کے لبوں پر مسکراہٹ ہے تو ممکن ہے وہ گلزارِ مدینہ کی خاموش کوشش کا نتیجہ ہو۔۔۔لاہور کے کسی ہسپتال میں اگر کسی مسافر کو مفت کھانا ملتا ہے تو شاید وہ کسی ایسے ہاتھ کی دین ہو جو نظر نہیں آتا مگر اثر چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ لاہور میں قائم سٹیٹ آف دی آرٹ اولڈ ایج ہوم صرف اینٹوں کی عمارت نہیں،یہ ان بوڑھی آنکھوں کے لیے آسرا ہے جنہوں نے عمر بھر سب کو سہارا دیا مگر بڑھاپے میں خود تنہا رہ گئیں۔۔۔یہاں بزرگ افراد کو عمر کے آخری حصے میں تنہائی نہیں،عزت ملتی ہے۔۔۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس ہوں یا دور دراز علاقوں میں فری ہیلتھ کیمپس،کہیں ماہانہ راشن کے تھیلے ہوں یا کہیں ذہین مگر مجبور بچوں کے لیے سکالرشپس ۔۔۔
یہ سب کسی منصوبہ بندی کے کاغذی نعرے نہیں بلکہ ٹوٹے دلوں کی عملی مرہم ہیں اور جب کوئی غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے بوجھ تلے دب جاتا ہے تو گلزارِ مدینہ اس کے لیے صرف مدد نہیں بنتا،عزت بن جاتا ہے۔ وہ بیٹیاں جو رخصتی کے وقت آنسووں کے بجائے دعائیں دیتی ہیں،وہ دعائیں شاید سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔کہیں ماہانہ راشن کی صورت میں چولہے جل رہے ہیں،کہیں صاف پانی کے ایک گھونٹ سے کسی ماں کی دعا آسمان تک جا رہی ہے۔۔۔ کہیں فری ہیلتھ کیمپ میں درد کم ہو رہا ہے، کہیں ذہین مگر مجبور طالب علم کے ہاتھ میں سکالرشپ کی صورت مستقبل تھمایا جا رہا ہے۔۔۔ کہیں غریب بچی کی رخصتی آنسووں کے بجائے دعاوں کے سائے میں ہو رہی ہے۔۔۔ یہ سب کچھ کسی شور کے بغیر،کسی دعوے کے بغیر ۔۔۔ بس اللہ پر یقین کے ساتھ ۔۔۔ قرآن کریم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ”اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو،وہ تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جاتا ہے اور تم پر ظلم نہیں کیا جاتا۔۔۔۔ایک اور جگہ کہا گیا ”جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں“۔۔۔ یہی دانہ گلزارِ مدینہ بو رہا ہے،خاموشی سے،مسلسل،یقین کے ساتھ ۔۔ ۔یہی یقین اس خدمت کی بنیاد ہے۔یہی یقین اسے صدقہ جاریہ بناتا ہے۔۔۔
اور اب رمضان دروازے پر دستک دے رہا ہے۔۔۔رمضان کریم کی خوشبو فضاوں میں گھلنے لگی ہے،وہ مہینہ جس میں آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں،جس میں رحمت بارش بن کر برستی ہے،جس میں ایک نیکی کا وزن پہاڑوں جتنا ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ مہینہ جس میں نبی کریم ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی بڑھ جاتی تھی ۔۔۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا بھر میں بسنے والے مخیر حضرات خود سے ایک سوال کریں کہ کیا میرا مال میرے بعد بھی زندہ رہے گا؟کیا میری زکوٰة، میرا صدقہ، میرے لیے بھی دعا بنے گا؟اگر دل چاہتا ہے کہ آپ کی دی ہوئی رقم کسی یتیم کے سر پر ہاتھ بنے،کسی ماں کے چولہے کی آگ بنے،کسی بوڑھے کی تنہائی کی ہمسفر بنے تو گلزارِ مدینہ سے بہتر جگہ شاید ہی ہو۔۔۔ دنیا بھر میں بسنے والے مخیر حضرات کے لیے یہ ایک پکار نہیں،ایک دعوتِ دل ہے۔۔۔ آئیں،اپنی زکوٰة،صدقات اور عطیات کو ایسے ہاتھوں میں دیں جو دکھاوے سے پاک ہیں،جو ہر رقم کو امانت سمجھتے ہیں،جو جانتے ہیں کہ یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا کس قدر بڑا اجر رکھتا ہے۔۔۔ گلزارِ مدینہ صرف ایک ادارہ نہیں،یہ ایک دعا ہے جو زمین سے اٹھ کر آسمان تک جاتی ہے۔۔۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مال آپ کے بعد بھی زندہ رہے،اگر آپ چاہتے ہیں کہ رمضان میں آپ کی بخشش کا سامان بنے تو اس خاموش کارواں کا حصہ بن جائیے۔۔۔ کیونکہ کچھ نیکیاں شور نہیں کرتیں،وہ دل بدل دیتی ہیں۔آئیں،اس رمضان اپنے ہاتھ اس خاموش کارواں کے ساتھ ملا دیں ۔۔۔ کیونکہ کچھ نیکیاں تصویروں میں نہیں ملتیں،وہ صرف رب کے ہاں محفوظ ہوتی ہیں اور اصل کامیابی وہی ہے۔۔۔۔