پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)سینئر قانون دان اور انصاف لائرز فورم خیبر پختون کے صدر قاضی محمد انور نے تحریک انصاف سے استعفیٰ دیتے ہوئے پارٹی قیادت پر سنگین الزامات عائد کر دیئے ہیں ۔
ایگزو نیوز کے مطابق معروف قانون دان اور تحریک انصاف کے رہنما قاضی محمد انور کا کہنا تھا کہ جتنی تکلیف اور اذیت مجھے تحریک انصاف میں ملی، اتنی پوری زندگی میں نہیں ملی،پارٹی کی موجودہ قیادت نے میری بہت بے عزتی کی، جس منشور اور اصولوں پر پارٹی قائم کی گئی تھی، اس پر عمل نہیں ہو رہا اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد قاضی انور کی یہ سیاسی اور پیشہ ورانہ حرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پارٹی میں اندرونی اختلافات اور عدم شفافیت سینئر رہنماوں کی صبر کی حد کو بھی عبور کر گئی ہیں۔ قاضی محمد انور کے استعفیٰ کے بعد تحریک انصاف میں ان کے سیاسی مستقبل اور پارٹی میں پیش آنے والے ردعمل پر کافی بحث متوقع ہے۔یاد رہے کہ خیبر پختون خوا بار کونسل کے انتخابات میں تحریک انصاف کے پانچ ووٹ موجود تھے مگر انہی ووٹوں کے باوجود پارٹی کے امیدوار نے انہیں حمایت نہیں دی اور ایک پروفیشنل گروپ اور جماعت اسلامی کا امیدوار کامیاب ہو گیا۔ اس واقعے سے قاضی انور شدید دل برداشتہ اور مایوس ہو گئے، اور انہوں نے پارٹی کی قیادت کی رویے کو اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ عزت کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔یہ اقدام اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی قانونی اور سیاسی برادری میں پارٹی وفاداری اور اصولی سیاست کے درمیان بڑھتا ہوا خلا سینئر قانون دانوں کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
سینئر قانون دان قاضی محمد انور کا تحریک انصاف سے مستعفی ہونے کا اعلان،پارٹی قیادت پر سنگین الزامات عائد کر دیئے
4