#کابل(ایگزو نیوز ڈیسک)افغانستان میں طالبان حکومت نے ایک اہم اور غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے بھارت کے سینئر سفارت کار ہریش کمار کو ملک بدر کر دیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ہریش کمار پر الزام ہے کہ وہ طالبان کے مخالف گروہوں اور رہنماوں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے تھے اور انہیں منظم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔
ذرائع کے مطابق افغان حکام نے 16 اگست کو بھارتی سفارتخانے کے عملے کو وزارت خارجہ طلب کر کے ہریش کمار کی بے دخلی کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ بعد ازاں 17 اگست کو انہیں کابل چھوڑنے کا حکم دیا گیا جس کے تحت وہ فوری طور پر دہلی روانہ ہوگئے۔ طالبان حکومت نے باضابطہ طور پر انہیں “نا پسندیدہ شخصیت” قرار دے دیا۔افغان میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ہریش کمار طالبان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے اور مبینہ طور پر وہ افغانستان میں بھارت کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا حصہ بھی رہے ہیں۔وہ سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد کابل میں سفارتکار کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس افسر کے طور پر بھی تعینات رہے۔اس تناظر میں طالبان کا یہ فیصلہ افغانستان اور بھارت کے تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔بھارتی سفارتخانے نے تا حال اس معاملے پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے تا ہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طالبان حکومت کی جانب سے بھارت کو ایک واضح پیغام ہے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا مخالف دھڑوں کی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب طالبان حکومت نے کسی ملک کے سفارتکار کے خلاف ایسا سخت قدم اٹھایا ہو مگر ایک سینئر بھارتی نمائندے کی ملک بدری کو خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی بساط پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
افغان حکومت کا بڑا قدم،سینئر بھارتی سفارت کار ہریش کمار کابل سے بے دخل
16