اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی نصرت جاوید نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بارے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے۔
ایگزو نیوز کے مطابق معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی نصرت جاوید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے چند ساتھیوں کو بتایا تھا کہ وہ لاہور میں کوٹ لکھپت جیل کے اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے جا رہے ہیں،یہی بات پنجاب کے چند ایم پی ایز کو بھی بتائی گئی تھی مگر وہ کوٹ لکھپت کی بجائے مرزا صاحب کے فارم ہاوس جا پہنچے۔انہوں نے کہا کہ بانیِ تحریکِ انصاف چاہے جتنی سخت باتیں نام لے کر کر لیں بالاخر بات چیت انہی سے ہونی ہے،یہ دروازے علی امین گنڈا پور نے ہی کھولنے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وہ لاہور میں موجود تھے،ورنہ ایک ایسا وزیر اعلیٰ جس کے اپنے صوبے میں حالات یہ ہوں کہ خیبر ایجنسی میں جمعہ کی نماز لوگ چھتوں پر ادا کر رہے ہوں،اتوار کے روز باجوڑ کا ہر فرد مولانا خان زیب کی شہادت پر سڑکوں پر ہو،جہاں تھانوں پر ڈرون حملے ہو رہے ہوں،یہ سب کچھ چھوڑ کر لاہور کیوں آتا؟۔نصرت جاوید نے ماضی کا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ جب میں صحافت کا آغاز کر رہا تھا تو بیگم نصرت بھٹو جن کے خاوند قتل کے مقدمے میں پھانسی لگ چکے ہیں،ان کے پاس کارکن آتے اور انہیں اپنی قربانیاں بتاتے تھے،پھر جب وہ چلے جاتے تو وہ(نصرت بھٹو)کہتی کہ یہ اب مجھے بتا رہے ہیں کہ ان کی جماعت کے لیے کتنی قربانیاں ہیں؟محترمہ بے نظیر بھٹو 2 بار وزیر اعظم رہی تو بہت دفعہ ایسے ہوتا کہ جب وہ اسمبلی آتی تو اسمبلی کے چیمبر میں ہم چلے جاتے،وہ کہتی تھی کہ آؤ کافی پئیں،میں ساتھ ساتھ چمچہ گیری کے لیے چلا جاتا اور سوچتا کہ خبر مل جائے گی،ان کے پاس کارکن آتے تھے اور ہر ایک کے پاس فہرست ہوتی تھی اور پیپلز پارٹی کے بہت سارے وزراء ان کے کمروں میں گھس کر اپنی قمیض اٹھا کر کہتے تھے کہ ہم نے بہت کوڑے کھائے ہیں،آج بانی تحریک انصاف کہتا ہے کہ جب مجھے بتایا جاتا ہے کہ فلاں بندے نے بڑی قربانی دی تو کیا انہیں اندازہ ہے کہ میں جیل میں کیسی سختیاں برداشت کر رہا ہوں؟مجھے چھوڑو میری بیوی بشری بیگم کیسے سختیاں برداشت کر رہی ہیں؟آپ کو یاد ہے کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ اگر بانی تحریک انصاف کے فرزند تحریک چلانے آئے تو لاہور اتریں گے اور پشاور نہیں جائیں گے،میرا خیال ہے علی امین کے بیان کے بعد ان کی منزل پشاور ایئرپورٹ ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں شطرنج کی بازی بانی تحریک انصاف کو یہ بتانے کے لیے یہ لگائی گئی کہ ہمارے صوبے میں بہت سرپرائز آتے رہتے ہیں،سینیٹ کی نشستوں کو خریدا جائے گا تو لہذا عرفان سلیم جو پشاور تحریک انصاف کے صدر ہیں اور خرم ذیشان کو ٹکٹ دینے کا کیا فائدہ؟کیونکہ ہم انہیں ٹکٹ تو دے دیں گے لیکن بعد میں ہم انہیں جیتوا نہیں پائیں گے،کیونکہ وہاں پر نوٹوں کی بوریاں چلیں گی،تحریک انصاف کی جانب سے جو سینیٹ الیکشن کی لسٹ آئی ہے اس میں کیا مراد سعید کا نام غلط ہے؟وہ کئی عرصے سے اپنی جان بچاتے ہوئے روپوش ہیں،کیا فیصل جاوید کا نام بھی غلط ہے؟۔نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ بطور رپورٹر آپ مجبور ہوتے ہیں کہ ہر چیز نہایت غور سے دیکھیں،آج اڈیالہ جیل میں فیملی سے ملاقات کا دن تھا لیکن فیملی کو پہلے ہی ناکے پر روک لیا گیا،اسی دوران بیرسٹر سیف پہنچے جو علی امین گنڈا پور کے مشیر ہیں،جو ہمیشہ طاقتور حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں،آج علیمہ بی بی کا بیان پڑھ کر افسوس ہوا،تقریباً 1ماہ پہلے تک مجھے لگتا تھا کہ جیل میں رہ کر بھی بانی تحریک انصاف ہم جیسے صحافیوں سے زیادہ باخبر ہیں لیکن اب احساس ہوا ہے کہ شاید ایسا نہیں ہے،آج مجھے احساس ہوا کہ بانی تحریکِ انصاف مجھے کبھی مردم شناس محسوس نہیں ہوئے،اگر ہوتے تو عثمان بزدار کو آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیرِ اعلیٰ نہ بنائے رکھتے جو مشکل کی پہلی اندھی چلتے ہی دغا دے گیا،اسی طرح بانیِ تحریکِ انصاف نے اپنے دیرینہ کلاس فیلو پرویز خٹک کو چھوڑ کر محمود خان کو وزیرِ اعلیٰ بنایا،جس کے بعد میں نے ان کی مردم شناسی پر کبھی اعتبار نہیں کیا،آج سے پہلے میں بانیِ تحریکِ انصاف کو ہوشیار سمجھتا تھا کہ وہ ہر چال سوچ سمجھ کر چلتے ہیں،میں نے یہ دیکھا کہ بہنوں سے پہلے بیرسٹر سیف کی ملاقات ہو گئی اور انہیں اولیت دی گئی،بیرسٹرسیف نے جو کہانی بانی تحریک انصاف کو سنائی وہ انہوں نے فوراً تسلیم کر لی،اس دوران وہ برہم ہو چکے تھے،علیمہ بی بی کے بقول انہوں نے ایسے سخت الفاظ استعمال کئے جو وہ دہرا بھی نہیں سکتیں،اگر عمران خان کے اس موڈ کو سمجھنا ہو تو سلمان اکرم راجہ کی آج کی گفتگو اس کا عکس ہے،سلمان اکرم راجہ بہت ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں لیکن میں نے انہیں اس طرح کبھی جلال میں نہیں دیکھا،سلمان اکرم راجہ کی ٹون بانی تحریک انصاف کی آج کی ملاقات کا شاخسانہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میری تحریک انصاف سے کوئی ذاتی وابستگی نہیں اور نہ ہی اس کا امکان ہے،اس کے باوجود دیانتداری سے سمجھتا ہوں کہ علی امین گنڈا پور لاہور کوئی سومنات فتح کرنے نہیں گئے تھے بلکہ وہاں پر علی امین گنڈا پور مرزا آفریدی کا پارٹی میں رول لیجٹمائز کرنے گئے تھے،یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ان کے ساتھ جانے والوں کو یہ تاثر نہیں دیا گیا تھا کہ لاہور پہنچ کر وہ کوٹ لکھپت جیل کے باہر اسیر کارکنوں سے اظہارِ یکجہتی کریں گے؟یہی بات پنجاب کے کچھ ایم پی ایز سے بھی کہی گئی کہ وہ گوجرانوالہ کے قریب شامل ہوں،لاہور داخل ہوتے ہی پہلے کوٹ لکھپت جائیں گے،علی امین گنڈاپور کا لاہور جانے کا اصل ٹارگٹ یہ تھا کہ مرزا آفریدی اچھا آدمی ہے،ہماری پارٹی اب غریب ہو رہی ہے،یہ ظالم حکومت ہماری پارٹی کو تعاون نہیں کر رہی۔
معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی نصرت جاوید نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بارے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
12