Home » ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ پر حملہ اور ایران کے خلاف خوفناک فوجی کارروائی کے پیچھے چھپی اصل کہانی؟برطانوی خبر رساں ادارے کا تہلکہ خیز انکشاف

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ پر حملہ اور ایران کے خلاف خوفناک فوجی کارروائی کے پیچھے چھپی اصل کہانی؟برطانوی خبر رساں ادارے کا تہلکہ خیز انکشاف

by ahmedportugal
1 views
A+A-
Reset

لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کے پیچھے کئی خفیہ سازشیں اور عسکری منصوبہ بندی چھپی ہوئی تھیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلیفونک رابطوں میں اہم انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا گیا،جس نے خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو ممکن بنایا،اس دوران متعدد عالمی عوامل، خفیہ ملاقاتیں اور ایران کی جوہری اور بیلسٹک صلاحیتوں پر خدشات نے کارروائی کے وقت اور حکمت عملی کا فیصلہ کیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد دی گئی،جس کا انکشاف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونوں رہنماوں کے درمیان رابطے میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا گیا،جس میں خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھیوں کی تہران میں ایک مقام پر موجودگی کی تفصیلات شامل تھیں۔اس جگہ کو ڈی کیپیٹیشن سٹرائیک،یعنی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں قرار دیا گیا تھا تاہم بعد میں نئی معلومات سے معلوم ہوا کہ ملاقات مقررہ وقت سے پہلے منتقل کر دی گئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے موقف اختیار کیا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا یہ شاید آخری موقع ہو جبکہ ٹرمپ پہلے ہی ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی منظوری دے چکے تھے اور وقت و طریقہ کار کا فیصلہ باقی تھا۔بالآخر 27 فروری کو امریکی صدر نے آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا حکم دیا اور 28 فروری کی صبح ابتدائی حملے کیے گئے۔اسی شام ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کیا۔وائٹ ہاوس کی ترجمان نے اس کال پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام،بحریہ اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے اس بات کی تردید کی کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران جنگ میں دھکیل دیا اور ٹرمپ نے بھی اعلان کیا کہ حملے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس اقدام کے پیچھے انتقامی عنصر ہونے کا اشارہ دیا،جس کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

گذشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملہ کیا تھا،جس میں کئی ایرانی رہنما مارے گئے اور بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوگیا۔ اس کے بارہ دن بعد یہ کارروائی کامیاب قرار پائی اور اس کے بعد ایران کی باقی ماندہ صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے مزید حملوں کی منصوبہ بندی شروع کی گئی۔دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات میں جون کی کارروائی پر عدم اطمینان ظاہر کیا گیا،جس کے بعد نئے حملے پر غور کیا گیا۔اگرچہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہاں تھے مگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا گیا۔جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بڑے فوجی آپریشن کے کم خطرات کا تاثر دیا جبکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور کریک ڈاون نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا۔

فروری میں واشنگٹن میں امریکی اور اسرائیلی خفیہ عسکری مشاورت میں تیزی آئی اور ملاقات میں نیتن یاہو نے ایران کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 24 فروری کو خبردار کیا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے،جس کے بعد یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔ایران جنگ کے دوران 2300 سے زائد ایرانی شہری جاں بحق اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ خلیجی ممالک پر حملے،اہم بحری راستوں کی بندش اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ بھی ہوا۔اس دوران ٹرمپ کو بریفنگ دی گئی کہ ایرانی قیادت کے خاتمے سے ممکن ہے تہران میں کوئی نئی حکومت مذاکرات کے لیے آمادہ ہو تاہم سی آئی اے نے اندازہ لگایا کہ خامنہ ای کے بعد سخت گیر قیادت سامنے آئے گی۔خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنی ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا۔ایران میں پاسداران انقلاب ملک بھر میں گشت کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہے جبکہ ملک میں سلامتی اور سیاسی صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز