Home » سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ کا پول کھل گیا،دشمن نیٹ ورک کی لوکیشن،نام اور کردار سامنے آگئے

سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ کا پول کھل گیا،دشمن نیٹ ورک کی لوکیشن،نام اور کردار سامنے آگئے

by ahmedportugal
1 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف بظاہر بے ضرر مگر منظم اور خطرناک ڈیجیٹل جنگ آخرکار بے نقاب ہو گئی ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ پاکستان اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والی یہ آن لائن مہم دراصل ایک گہری جڑوں والی بیرونی نیٹ ورکنگ کا حصہ تھی جسے بھارت، افغانستان اور وسطی ایشیا سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ متعدد اکاونٹس ایسے سامنے آئے ہیں جو جعلی شناختوں کے ذریعے پروپیگنڈا، انتشار اور نفرت پھیلانے کے مشن پر سرگرم تھے۔ ان نیٹ ورکس کی اصل لوکیشنز، مشن سنبھالنے والے افراد اور ان کے منظم طریقہ کار کی نشاندہی نے اس خفیہ جنگ کا پورا نقشہ واضح کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
ٰٓایگزو نیوز کے مطابق حکومتی اور تحقیقاتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم سوشل میڈیا مہم چلانے والے متعدد اکاونٹس کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جن میں سے تاحال 33 سرگرم اکاونٹس بین الاقوامی مقامات، بالخصوص بھارت، وسطی ایشیا اور افغانستان سے منظم انداز میں چلائے جا رہے تھے۔ ذرائع نے اس مہم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے پیچھے بعض دہشت گردانہ اور دشمن عناصر بھی ہیں جن کا مقصد اندرونی افراتفری اور اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق ان 33 اکاونٹس میں سے 22 اکاونٹس کا تعلق گروپِ ”فتنہ الخوارج“کے نیٹ ورک سے منسوب کیا گیا ہے جب کہ 11 اکاونٹس وہ ہیں جو براہِ راست پاکستان مخالف عناصر کے کنٹرول میں رہے۔ذرائع نے ان اکاونٹس کے نام اور آپریشن کے جغرافیائی سیٹ اپ کی تفصیل بھی فراہم کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان سے چلائے جانے والے اکاونٹس” مفتی نورولی“ اور ” غازی میڈیا نیٹ “ کے نام سے قائم کردہ پروفائلز فتنہ الخوارج کے عناصر کے کنٹرول میں۔ اسی طرح ” الحسن محمود “ اور ” سید آر ساحل “، ” شہید مدثر “ اور ” پتراز ستریور “ جیسے ناموں سے چلائے جانے والے اکاونٹس بھی افغانستان بیسڈ نیٹ ورک سے مربوط بتائے گئے۔ مزید برآں ”وائس آف ہندوکش“، ”مثنی ابن حارثہ“، ”حسان بدر“، ”جاہد مبارز“ اور ”خراسان ابن العربی“ کے نام بھی اسی آپریشنل حلقے سے جوڑے گئے ہیں۔

وسطی ایشیا سے چلائے جانے والے اکاونٹس” احسان اللہ احسان “، ” اسلام آباد پوسٹ “ کے نام وسطی ایشیا سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔اسی خطے سے ” صدائے ہندوکش “، ” نقطہ “، ” سنٹرل ایشیا “، ” رحمت اللہ کا تاوازئی “، ” الشریعہ انصار پاکستان “اور ” خراسان بلیٹن “ جیسے اکاونٹس بھی چلائے جا رہے ہیں۔بھارت سے چلائے جانے والے پاکستان مخالف اکاونٹس میں ” میر یار بلوچ “اور ” نگہت عباس “ کے نام سے چند پروفائلز بھارت سے آپریٹ ہو رہے ہیں جبکہ ” کونفلیکٹ مانیٹر “، ” پاکستان ان ٹولڈ “، ” رایان “، ” وار ہاریزن “، ” دی ڈیلی ملاپ “، ” فردوس خان “، ” ورلڈ اپ ڈیٹ “ اور ” امیزنگ وول “ جیسے متعدد پلیٹ فارمز بھی بھارت سے منظم دباو اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ ” براک لینسر “ کے نام سے موجود ایک اکاونٹ وسطی ایشیا سے چلانے کا شبہ ہے۔تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ یہ اکاونٹس نہ صرف جعلی خبروں،تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اداروں کی ساکھ کو نشانہ بنا رہے تھے بلکہ بعض اوقات تشدد کو ہوا دینے،فرقہ وارانہ انتشار اور غلط معلومات کے ذریعے عوام میں خوف و عدم اعتماد پھیلانے کی کوشش بھی کی گئی۔ان اکاونٹس کے پیغام رسانی کے انداز میں ہم آہنگ سینٹیکس،یکساں ہیش ٹیگز اور بوقت ضرورت یکساں بیانیہ اپنانے کے واضح ثبوت ملے ہیں،جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ منتشر مگر مربوط نیٹ ورک منظم حکمت عملی سے کام کر رہا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان کوششوں میں بعض نامور شخصیات کے نام اور جعلی ہینڈلز بھی بطور آلہ کار استعمال کیے گئے تا کہ پیغام کو زیادہ رسائی اور مقبولیت دی جا سکے۔تحقیقاتی ٹیمیں مسلسل ڈیجیٹل فنگر پرنٹس،آئی پی ٹریکنگ اور کنٹینٹ فیچرنگ کے ذریعے ان نیٹ ورکس کی شناخت اور پھیلاو کا نقشہ تیار کر رہی ہیں۔ان انکشافات کے حوالے سے ماہرینِ سائبر سکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے حکومت کو مشاورت فراہم کی ہے کہ ایسے غیر ملکی اور دشمنی انگیز نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی اور تکنیکی کارروائیاں لازمی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے ان اکاونٹس کے خلاف آئندہ دنوں میں بلاکنگ،ڈلیٹنگ،قانونی نوٹس اور بین الاقوامی نیٹ ورکس کے ذریعے شناختی معلومات حاصل کرنے کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔یہ تہلکہ خیز انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی جعلی معلومات،پروپیگنڈا اور بیرونی مداخلت کے خلاف قومی حساسیت بلند ہے۔حکومتی حلقے خبردار کر چکے ہیں کہ جہاں بھی باہر سے یا اندرونی طور پر اداروں کے خلاف پروپیگنڈا سامنے آئے گا،اسے فوری طور پر بے نقاب اور موثر طور پر روکا جائے گا تا کہ قومی سلامتی،اجتماعی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو لاحق کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔تحقیقی ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ عوام بھی محتاط رہیں،غیر مصدقہ معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں اور کسی شبہ ناک مواد کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ بروقت اور شفاف کارروائی ممکن ہو سکے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز