اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک میں غیر ملکی کمپنیوں کی بندش سے متعلق گردش کرنے والے اعدادوشمار کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ پاکستان میں اس وقت 1157 غیر ملکی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ حالیہ برسوں میں صرف 19 کمپنیوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اپنی سرگرمیاں بند کیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں غیر ملکی کمپنیوں کے پاکستان سے انخلا یا بندش کے اعدا د و شمار غلط انداز میں پیش کیے جا رہے ہیں،جو حقائق کے منافی ہیں۔ایس ای سی پی کے مطابق 1157 غیر ملکی کمپنیوں کی رجسٹریشن ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول پر بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔بیان کے مطابق صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران 82 مقامی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی،جو مختلف ممالک سے آئی۔ان ممالک میں چین،امریکہ،آسٹریلیا،ترکی،برطانیہ،جنوبی افریقہ،ڈنمارک،جرمنی،ملائیشیا،جنوبی کوریا اور سپین شامل ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ایس ای سی پی نے مزید بتایا کہ 2022 سے 2025 کے دوران 79 نئی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئیں جبکہ اسی عرصے میں صرف 19 کمپنیوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر اپنی سرگرمیاں بند کیں۔کمیشن کے مطابق بعض رپورٹس میں جن 155 غیر ملکی کمپنیوں کی بندش کا حوالہ دیا جا رہا ہے،وہ دراصل 1977 سے اب تک بند ہونے والی کمپنیوں کی مجموعی تعداد ہے،جسے حالیہ صورتحال کے تناظر میں پیش کرنا درست نہیں۔ایس ای سی پی نے واضح کیا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان سے متعلق اعداد و شمار کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے تاکہ درست تصویر سامنے آسکے اور سرمایہ کاری کے ماحول کے بارے میں غیر ضروری ابہام پیدا نہ ہو۔