اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپنے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے قریب آنے کا عندیہ دیتے ہوئے نئی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ ممکنہ فوجی کارروائی کو وقتی طور پر موخر کرتے ہوئے امریکہ نے دباو اور مذاکرات کو بیک وقت آگے بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ہے،جس سے خطے کی صورتحال ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطا بق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم بیان دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ جمعہ کو متوقع ہے جبکہ اس دوران فوج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل چوکسی کے ساتھ ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف دباو برقرار رکھنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھی جائے گی اور یہ حکمت عملی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایرانی قیادت اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتی۔ان کے مطابق موجودہ پیش رفت کو مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ مرحلے میں دونوں فریق کسی عملی پیش رفت کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی کو عارضی طور پر توسیع دی جا رہی ہے تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور اس دوران تمام عسکری و سفارتی آپشنز کو کھلا رکھا گیا ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ امریکہ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے تاہم اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹرتھ“پر جاری بیان میں انکشاف کیا تھا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملہ فی الحال موخر کر دیا گیا ہے،یہ فیصلہ پاکستانی وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکی درخواست پر کیا گیا، تاکہ ایرانی قیادت کو متفقہ تجویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق آئندہ چند دن صورتحال کے تعین میں نہایت اہم ثابت ہوں گے، جہاں مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔