Home » بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع زبردستی نہیں دیا جا سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع زبردستی نہیں دیا جا سکتا،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

by ahmedportugal
23 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ملک میں خاندانی قوانین کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سپریم کورٹ نے اپنے ایک بڑے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ بیوی کی واضح اور آزادانہ رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر ممکن نہیں۔اس فیصلے نے نہ صرف خلع سے متعلق قانونی تشریح کو نئی جہت دی ہے بلکہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت دے دی ہے،جس کے بعد فیملی مقدمات میں عدالتی طریقہ کار پر دور رس اثرات متوقع ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے گھریلو تنازعات اور خلع سے متعلق ایک اہم اور تفصیلی فیصلے میں واضح قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح،باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں، تین رکنی بینچ،جس کی سربراہی چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے کی،نے اس معاملے پر 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جسے خاندانی قوانین میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔فیصلے میں جسٹس شاہد بلال حسن نے واضح کیا کہ اگر بیوی نے عدالت میں ظلم اور زیادتی کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہو تو اسے زبردستی خلع میں تبدیل کرنا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ اس کے مالی اور قانونی حقوق کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ بیوی کو مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ یا تو اپنے ظلم کے دعوے کو جاری رکھے یا اپنی مرضی سے خلع قبول کرے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ گھریلو تشدد کی تعریف محض جسمانی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اس میں ذہنی اذیت، تذلیل،دباو اور جذباتی محرومی بھی شامل ہیں۔عدالت کے مطابق کسی شریکِ حیات کو نظر انداز کرنا یا مسلسل ذہنی تکلیف دینا بھی ظلم کے زمرے میں آ سکتا ہے،جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے فیملی مقدمات میں ثبوت کے معیار پر بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کیسز میں ”غالب امکان“ کو بنیاد بنایا جاتا ہے،نہ کہ فوجداری مقدمات کی طرح ”شک سے بالاتر“ معیار کو۔اس لیے فیملی عدالتوں کو ہر صورت عینی شاہد یا ایف آئی آر جیسے سخت تقاضوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔

عدالت نے زیر سماعت کیس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ فریقین کی شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جبکہ صرف چند ہفتوں بعد 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کر دیا گیا،جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات قلیل مدت میں بھی ازدواجی تعلقات شدید تنازع کا شکار ہو سکتے ہیں۔فیصلے کے مطابق اگرچہ بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی تاہم عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ شادی عملی طور پر ختم ہو چکی تھی۔اس بنیاد پر کیس کو جزوی طور پر متعلقہ فیملی کورٹ کو واپس بھیج دیا گیا تاکہ بیوی کا حتمی موقف ریکارڈ کیا جا سکے اور اس کی رضامندی واضح طور پر حاصل کی جائے۔سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کی کہ فیملی کورٹ اس کیس کو 30 دن کے اندر نمٹائے اور فیصلہ بیوی کے واضح انتخاب کے مطابق کیا جائے،چاہے وہ خلع ہو یا ظلم کے دعوے کی بنیاد پر علیحدگی۔اس فیصلے کو قانونی ماہرین خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فیملی لا میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز