اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے علاج، طبی سہولیات اور اہلخانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کا سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے،جس میں انہیں دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے،جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور مکمل طبی ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی جانب سے تحریر کیے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔بورڈ میں جنرل فزیشن،جنرل سرجن،ماہرِ امراضِ داخلیہ،آنکھوں کے ماہر اور کارڈیالوجسٹ شامل ہوں گے جبکہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی میڈیکل بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ عمران خان کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ہسپتال میں قیام کے دوران حکومت فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہسپتال کے باہر کسی سیاسی اجتماع یا ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو۔
تحریری فیصلے کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کے علاج اور دیگر طبی سہولیات کے اخراجات وہ خود یا ان کے اہلخانہ برداشت کریں گے۔ہسپتال میں معائنے اور علاج کے بعد تیار ہونے والی مکمل طبی رپورٹس آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ میں پیش کرنا بھی لازم ہو گا۔عدالت نے عمران خان سے اہلخانہ کی ہفتے میں ایک روز ملاقات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس کے علاوہ انہیں اپنے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے عمران خان کے طبی ریکارڈ کے حوالے سے واضح کیا کہ عدالت کے سامنے محض خلاصہ یا سمری پیش کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ ان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل تمام متعلقہ طبی دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔فیصلے میں طبی سہولیات سے متعلق درخواست کے پس منظر کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تحریری حکم کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے 12 مارچ 2026 کو طبی سہولیات سے متعلق درخواست مسترد کی تھی،جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔اپیل میں عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے ماہرِ امراضِ چشم کی سہولت،ذاتی معالجین تک رسائی اور اہلخانہ کو طبی معائنے کے دوران مناسب رسائی دینے کی استدعا کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے مقدمے میں توہینِ عدالت کے تمام فریقین کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت سے قبل تحریری جوابات جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے متعلقہ فریقین کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔تحریری فیصلے میں یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی ارکان ان کی صحت سے متعلق معلومات یا میڈیکل تفصیلات سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔عدالت نے واضح کیا کہ اگر فراہم کردہ یقین دہانیوں یا عدالتی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی تو دیا گیا ریلیف واپس لیا جاسکتا ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر حکومت کو محسوس ہو کہ دی گئی سہولتوں یا عدالتی حکم کا غلط استعمال ہورہا ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔اسی طرح عمران خان یا ان کے اہلخانہ کو بھی کسی شکایت کی صورت میں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
سپریم کورٹ نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی سیکیورٹی کے حوالے سے حکومت کو واضح ذمہ داری سونپی ہے۔عدالت کے مطابق طبی علاج کے دوران ان کی حفاظت کے لیے موثر انتظامات کیے جائیں اور ہسپتال کے باہر کسی سیاسی سرگرمی یا اجتماع سے گریز یقینی بنایا جائے۔عدالت نے عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ سماعت پر ان کے خلاف زیرِسماعت، زیرِتحقیق اور دیگر مقدمات سے متعلق مکمل معلومات عدالت میں پیش کی جائیں۔ملاقاتوں کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ نے تفصیلات طلب کی ہیں۔عدالت اس سے قبل اڈیالہ جیل حکام سے گزشتہ برسوں کے دوران عمران خان سے اہلخانہ کی ملاقاتوں اور ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کا ریکارڈ طلب کرچکی ہے تاکہ عدالتی ہدایات پر عملدرآمد کی صورتحال واضح ہوسکے۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عمران خان کے طبی معاملات کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے علاج اور صحت سے متعلق ضرورت کو مقدم رکھا جائے۔عدالت نے طبی رپورٹس کے سیاسی استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فریقین کو عدالتی شرائط کی پابندی کا پابند کیا ہے۔یہ تحریری فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کی آنکھ کے علاج اور انہیں جیل سے باہر کسی ماہر طبی مرکز منتقل کرنے کا معاملہ کئی عرصے سے زیرِبحث تھا۔ عدالت نے اب نہ صرف نجی ہسپتال منتقلی کی اجازت دی ہے بلکہ علاج کے لیے باقاعدہ ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کا بھی حکم دے دیا ہے۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی ہے۔آئندہ سماعت پر عمران خان کے علاج کی مکمل طبی رپورٹس،مطلوبہ میڈیکل ریکارڈ،عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی تفصیلات اور متعلقہ فریقین کے تحریری جوابات عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔یوں سپریم کورٹ کے سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے نے عمران خان کے علاج، اہلخانہ سے ملاقاتوں،طبی نگرانی اور سیکیورٹی سے متعلق انتظامات کو واضح شرائط کے ساتھ ایک باقاعدہ عدالتی فریم ورک میں دے دیا ہے۔