Home » سعودی عرب کی ابراہم معاہدے میں ممکنہ شمولیت پر تہلکہ،ٹرمپ کی نئی شرط نے مشرق وسطیٰ میں ہلچل مچا دی

سعودی عرب کی ابراہم معاہدے میں ممکنہ شمولیت پر تہلکہ،ٹرمپ کی نئی شرط نے مشرق وسطیٰ میں ہلچل مچا دی

by ahmedportugal
31 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سعودی عرب کی ابراہم معاہدے میں ممکنہ شمولیت کے گرد سفارتی سرگرمیاں اس وقت تیز ہو گئی ہیں جب امریکا کی جانب سے ایک نئی شرط نے مشرق وسطیٰ کی سیاسی فضا کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف نے خطے میں جاری سفارتی توازن کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں اب سعودی عرب کا فیصلہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ وسیع تر علاقائی امن و استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگی۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام،اقتصادی تعاون اور سفارتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دے گی۔نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے مشروط کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر واضح کیا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے ممکنہ جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر نہیں کرتا۔امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پرامن مقاصد کے لیے ہو گا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کے فوجی استعمال کے خدشات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے ایک روز قبل جب اس مجوزہ معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو اسے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں امریکی موقف میں تبدیلی سامنے آئی اور دونوں معاملات کو باہم مربوط قرار دیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سفارتی حرکیات کی عکاسی کرتی ہے،جہاں ایک جانب خطے میں نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں تو دوسری جانب اہم ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔سعودی عرب کی ممکنہ پالیسی خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے،جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز