ریاض(ایگزو نیوز ڈیسک) سعودی عرب کے مفتیِ اعظم، شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ طویل علالت کے بعد 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے پورے عالم اسلام میں گہرے دکھ اور رنج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سعودی رائل کورٹ کے مطابق، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہدایت دی ہے کہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کے لیے آج نمازِ عصر کے بعد مسجد الحرام (مکہ مکرمہ)، مسجد نبوی (مدینہ منورہ) سمیت مملکت کی تمام مساجد میں نمازِ جنازہ غائب ادا کی جائے۔ اس کے علاوہ ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ان کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی مفتیِ اعظم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ 30 نومبر 1943 کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور محض 20 برس کی عمر میں بینائی سے محروم ہو جانے کے باوجود فقہ، عقیدہ اور شریعتِ اسلامی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ سعودی عرب کے تیسرے مفتیِ اعظم تھے، ان سے قبل شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ اور شیخ عبدالعزیز بن باز یہ منصب سنبھال چکے تھے۔وہ ہیئت کبار العلماء(علماءکی اعلیٰ کونسل) اور دارالافتا کے سربراہ رہے اور وزیر کے مساوی عہدہ رکھتے تھے، انہیں سب سے زیادہ بار خطبہ حج دینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد اور مسجد نمرہ عرفات میں وہ برسوں خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔علم و فقہ کے مختلف شعبوں پر ان کی درجنوں کتب اور فتاویٰ موجود ہیں جنہیں اسلامی دنیا میں غیر معمولی اہمیت اور قبولیت حاصل ہے۔ ان کی علمی اور دینی خدمات کو پورے عالم اسلام میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کا تعلق سعودی عرب کے معروف آل الشیخ خاندان سے تھا، جو محمد بن عبدالوہاب کی نسل سے ہیں اور گزشتہ ڈھائی صدیوں سے آل سعود خاندان کے ساتھ قریبی رشتے اور دینی تعلقات میں جڑے رہے ہیں۔ان کے انتقال پر سعودی عرب سمیت عالم اسلام ایک عظیم دینی رہنما اور علمی رہبر سے محروم ہو گیا ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون: علم و عمل کا آفتاب غروب،سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ انتقال کر گئے
13