ریاض(ایگزو نیوز ڈیسک)سعودی عرب کی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نئی دوا ”فاونڈائیو“ (اورفورگلیپرون) کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے،جسے موٹاپے سے متاثرہ افراد کے لیے علاج کے نئے آپشن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔اتھارٹی کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اور وزن سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کو مزید موثر علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ”فاونڈائیو“ (اورفورگلیپرون)کی منظوری سعودی ویژن 2030 کے تحت صحت کے شعبے میں تبدیلی کے پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔نئی دوا بالغ افراد میں موٹاپے کے علاج اور ایسے مریضوں کے لیے استعمال کی جا سکے گی جو زیادہ وزن کے ساتھ وزن سے متعلق کسی بیماری میں مبتلا ہوں۔رپورٹس کے مطابق فاونڈائیو کا مقصد اضافی وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدت تک وزن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔دوا کی تجویز کردہ خوراک میں روزانہ ایک گولی استعمال کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دوا جسم میں موجود مخصوص ہارمون نظام کو متحرک کرتی ہے جو بھوک، خوراک کی مقدار اور خون میں شکر کی سطح کو قابو کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔اس کے نتیجے میں بھوک میں کمی،خوراک کی مقدار میں توازن اور ورزش و متوازن غذا کے ساتھ وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔سعودی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں بالغ افراد میں موٹاپے کی شرح 20.2 فیصد جبکہ زیادہ وزن رکھنے والے افراد کی شرح 38.2 فیصد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق خواتین میں موٹاپے کی شرح 21.4 فیصد اور مردوں میں 19.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق دوا کی منظوری مختلف طبی مطالعات کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد دی گئی۔ان مطالعات میں تیسرے مرحلے کی دو اہم تحقیقات شامل تھیں جو 72 ہفتوں تک جاری رہیں۔پہلی تحقیق میں موٹاپے کا شکار 3 ہزار 127 بالغ افراد شامل تھے جو ذیابیطس کے مریض نہیں تھے۔نتائج کے مطابق 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے افراد کے وزن میں اوسطاً 11.2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ دوسرے گروپ میں وزن میں کمی 2.1 فیصد رہی۔دوسری تحقیق میں موٹاپے کے ساتھ ذیابیطس کے مریض 1613 بالغ افراد شامل تھے۔اس تحقیق میں 36 ملی گرام خوراک استعمال کرنے والے افراد کے وزن میں اوسطاً 9.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ دوسرے گروپ میں یہ کمی 2.5 فیصد رہی۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں بھی فاونڈائیو کی منظوری دی جا چکی ہے تاہم طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ دوا ہر فرد کے لیے موزوں نہیں اور اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے اور نگرانی میں کیا جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق دوا شروع کرنے سے قبل مریض کا مکمل طبی معائنہ ضروری ہے،جس میں وزن، جسمانی ساخت،خون میں شکر،چکنائی کی سطح،جگر،گردوں اور تھائیرائیڈ کی صحت سمیت مریض کی ذاتی اور خاندانی طبی تاریخ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے مطابق دوا کے ممکنہ مضر اثرات میں متلی،قبض،اسہال،قے،بدہضمی،پیٹ میں درد،اپھارہ،تھکاوٹ اور بعض افراد میں بال گرنے کی شکایت شامل ہو سکتی ہے۔اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے افراد جنہیں خود یا خاندان میں تھائیرائیڈ کینسر کی مخصوص اقسام یا موروثی بیماریاں رہی ہوں،وہ اس دوا کے استعمال سے قبل لازمی طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔حکام نے زور دیا ہے کہ دوا کے استعمال کے دوران مریض کا باقاعدہ طبی معائنہ جاری رہنا ضروری ہے۔