لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی)کے بانی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ان کی بہن و ڈاکٹر کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عدلیہ کے وقار کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے بعد سامنے آنے والے اس فیصلے سے انہیں ذاتی طور پر بھی اطمینان محسوس ہوا اور ان کے دل کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے عدالتی فیصلے کو برسات کی حبس زدہ فضا میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکم سے عدلیہ کے بارے میں عوامی اعتماد کو تقویت مل سکتی ہے۔انہوں نے اس فیصلے پر متعلقہ جج صاحبان کو مبارکباد کا مستحق قرار دیا اور کہا کہ اگر اس میں ریاستی سطح پر کوئی مثبت سوچ شامل ہے تو اسے بھی سراہا جانا چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت اور زندگی سیاسی اختلاف سے بالاتر انسانی اور قومی اہمیت رکھتی ہے اور ان کے مطابق اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدالتی حکم کے بعد حکومت اور تحریک انصاف دونوں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور ایسا ماحول پیدا ہوگا جس میں عمران خان کے علاج اور صحت سے متعلق امور کو سیاسی کشمکش سے الگ رکھا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے اہلخانہ کو بھی اب زیادہ محتاط اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
سعد رفیق کے مطابق فریقین کا طرزعمل مستقبل میں مزید راستے کھلنے یا بند ہونے کا سبب بن سکتا ہے،اس لیے موجودہ صورتحال کو محاذ آرائی کے بجائے تدبر سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی اپنے سیاسی موقف سے بالاتر ہوکر عمران خان کے اہلخانہ سے ملاقات پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور ان کی پسند کے ڈاکٹروں تک رسائی کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ان کے مطابق کسی سیاسی مخالف کے بنیادی انسانی اور طبی حقوق کا تحفظ بھی ایک جمہوری معاشرے کی ذمہ داری ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق حکومت کی جانب سے عمران خان کے علاج کے لیے ماہر ڈاکٹرز بھی تعینات رہے ہیں اور طبی سہولیات میں بظاہر کوئی دانستہ کمی نہیں کی گئی تاہم ان کے بقول طویل عرصے تک قید اور تنہائی کا اثر کسی بھی شخص کی جسمانی و ذہنی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے جیل کے ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل قید کا تجربہ رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ مسلسل تنہائی اور محدود ماحول صحت کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ان کے مطابق یہ محض کسی ایک فرد کی ذاتی شکایت نہیں بلکہ جیل کے طویل قیام کے عمومی اثرات سے متعلق ایک حقیقت ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ اگر کوئی شخص سیاسی مخالف بھی ہو تو ریاست کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس کی جان، صحت، وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ان کے بقول ریاستی اختیار کا حسن اسی میں ہے کہ وہ مخالفین کے حقوق کی حفاظت بھی اسی سنجیدگی سے کرے جس کے ساتھ اپنے حامیوں کے حقوق دیکھے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی اور معاملہ عدالت تک نہ پہنچتا تاہم اب جبکہ عدالت نے واضح ہدایات جاری کردی ہیں تو اسے ”دیر آید درست آید“ کے مصداق ایک مثبت پیش رفت سمجھا جانا چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے حکومت اور پی ٹی آئی دونوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے انسانی بنیادوں پر دیکھیں اور عمران خان کے لیے علاج اور ملاقاتوں کے حوالے سے مزید آسانی پیدا ہونے دیں۔انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ صحت سے متعلق معاملات کو غیر ضروری سیاسی کشمکش کا حصہ نہ بنایا جائے۔
انہوں نے دیگر زیرِحراست پی ٹی آئی رہنماوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز چوہدری،عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر اسیران بھی مناسب طبی توجہ،بنیادی سہولیات اور انسانی حقوق کے اتنے ہی مستحق ہیں،جیل میں موجود ہر سیاسی کارکن کے ساتھ قانون اور انسانی وقار کے تقاضوں کے مطابق برتاو ہونا چاہیے۔خواجہ سعد رفیق نے واضح کیا کہ ایسے موقع پر ماضی کی سیاسی تلخیوں کو دہرانے،طعنہ زنی کرنے یا مخالفین کو گالیاں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ان کے مطابق ماضی کی حکومت کے اقدامات اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن کسی شخص کی صحت اور زندگی کے معاملے کو ان اختلافات کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں سیاسی اختلاف اپنی جگہ موجود رہتا ہے مگر بنیادی انسانی حقوق اور طبی سہولیات کسی سیاسی وابستگی سے مشروط نہیں ہونی چاہئیں۔ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ذمہ دارانہ طرزعمل ہی کشیدگی کم کرنے اور سیاسی ماحول میں بہتری لانے کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔سعد رفیق نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تمام متعلقہ فریق عدالتی احکامات کی مکمل پاسداری کریں گے،عمران خان کے علاج کو ترجیح دی جائے گی اور ان کی صحت سے متعلق معاملات کو مزید سیاسی تنازع بننے سے روکا جائے گا،موجودہ مرحلے پر اصل ضرورت یہ ہے کہ عمران خان سمیت تمام زیرِحراست سیاسی رہنماوں کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے،ریاست اپنے قانونی و آئینی فرائض ادا کرے اور سیاسی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ماحول کو مزید خراب کرنے سے گریز کریں۔