Home » یوکرین کو برطانوی میزائل ملے تو برطانوی فوجی اہداف محفوظ نہیں رہیں گے،روس نے خبردار کر دیا

یوکرین کو برطانوی میزائل ملے تو برطانوی فوجی اہداف محفوظ نہیں رہیں گے،روس نے خبردار کر دیا

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

ماسکو(ایگزو نیوز ڈیسک)روس نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے روسی سرزمین پر حملوں کے لیے برطانوی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل استعمال کیے تو ماسکو اس کے جواب میں یوکرین کے اندر اور اس کی سرحدوں سے باہر موجود برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران برطانیہ کو یہ سخت انتباہ جاری کیا۔روسی موقف کے مطابق برطانوی ہتھیاروں کے ذریعے روسی سرزمین پر حملوں میں اضافہ ماسکو اور لندن کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ماریہ زاخارووا نے الزام عائد کیا کہ برطانیہ روسی شہریوں کے خلاف ہونے والی مبینہ کارروائیوں میں قانونی طور پر شریک ہونے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر لندن نے اپنی پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو اس کے سنگین اور تباہ کن نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ماسکو پہلے بھی متعدد مرتبہ واضح کرچکا ہے کہ روسی سرزمین پر یوکرین کی جانب سے برطانوی ہتھیاروں کے استعمال کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا،ایسی صورتحال میں یوکرین کے اندر موجود برطانوی فوجی تنصیبات اور عسکری سازوسامان ہی نہیں بلکہ یوکرین سے باہر موجود متعلقہ برطانوی فوجی اہداف بھی روسی جوابی کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔زاخارووا نے برطانوی قیادت پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے اور ایسی حکمت عملی ترک کرے جس کے نتیجے میں موجودہ جنگ ایک زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے،برطانیہ کو اس معاملے میں فیصلہ کن اور واضح انداز اختیار کرنا چاہیے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔

روسی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماسکو اور لندن کے درمیان یوکرین جنگ کے حوالے سے پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں۔روس مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی کو جنگ کے دائرہ کار میں اضافے کا سبب قرار دیتا رہا ہے۔اس سے ایک روز قبل روس نے یوکرین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیرِ کنٹرول شہر ڈونیٹسک میں ایک شاپنگ سینٹر کو برطانوی ساختہ ’سٹارم شیڈو‘ کروز میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے۔یوکرین کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر موقف کی مزید آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب برطانیہ کی جانب سے یوکرین کے دفاعی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ برطانیہ یوکرین کو ایسی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرے گا جس کی مدد سے وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’سٹارم شیڈو‘ کروز میزائلوں کی مقامی سطح پر تیاری شروع کرسکے گا۔ماسکو کے لیے یہ پیش رفت خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کیونکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل یوکرین کو روسی سرزمین کے اندر نسبتاً دور واقع اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرسکتے ہیں۔ روس پہلے ہی مغربی ممالک کو خبردار کرچکا ہے کہ یوکرین کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کے نتیجے میں جنگ کے براہ راست پھیلنے کے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

تازہ روسی انتباہ کے بعد برطانیہ اور روس کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے تاہم روس کی جانب سے برطانوی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بیان کو فی الحال ایک سخت سفارتی اور عسکری انتباہ کے طور پر دیکھا جارہا ہے جبکہ اس کے عملی اثرات کا انحصار آئندہ یوکرینی حملوں،مغربی عسکری معاونت اور ماسکو کے ردعمل پر ہوگا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز