نیویارک(ایگزو نیوز ڈیسک)قوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو کھلوانے سے متعلق پیش کی گئی اہم قرارداد روس اور چین کے ویٹو کے باعث ناکام ہو گئی، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے، یہ قرارداد بحرین کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں عالمی برادری کو آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور بحری گزرگاہ کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی تھی۔
ایگزو نیوز کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں قرارداد پر رائے شماری کے دوران 11 ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا، تاہم روس اور چین نے ویٹو کا اختیار استعمال کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا، جبکہ پاکستان اور کولمبیا نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو رکن ممالک کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہو جاتا۔ابتدائی مسودے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سخت شقیں شامل تھیں،جن کے تحت فوجی طاقت کے استعمال کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی تاہم بعد ازاں اس زبان کو نرم کرتے ہوئے اسے “تمام ضروری دفاعی ذرائع” کے استعمال تک محدود کر دیا گیا تھا۔
بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ قرارداد کسی نئی صورتحال کو جنم دینے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور ایران کے مبینہ جارحانہ طرز عمل کے تناظر میں ایک سنجیدہ اور ضروری اقدام ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور چین کے ویٹو نے نہ صرف عالمی سفارتی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے بلکہ خلیج میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔آبنائے ہرمز،جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے،اس کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کے نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔