واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران پر بڑے حملوں کی تیاری میں مصروف ہے جبکہ برطانیہ کی جانب سے فوری تعاون نہ ملنے پر امریکی صدر نے شدید مایوسی کا اظہار کیاہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے ڈیگو گارشیا فوجی اڈے کو فوری طور پر استعمال کی اجازت نہ دینے پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایسے حساس مواقع پر قریبی اتحادیوں کے درمیان مکمل تعاون ضروری ہوتا ہے اور برطانوی رویئے نے دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات کو نمایاں کر دیا۔بعد ازاں برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے امریکا کو فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت دے دی،جس کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں سے خطے اور معصوم شہریوں کی حفاظت کرنا بتایا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی کارروائی کے اہداف واضح تھے،ایران کے میزائل پروگرام کو ختم کرنا اولین ترجیح تھی،کیونکہ ایران جلد ایسے میزائل تیار کر سکتا تھا جو امریکا تک پہنچ سکیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں میں ایران کے 49 سینئر رہنما ہلاک ہوئے اور 10 ایرانی بحری جہاز تباہ کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام میں تیزی سے پیش رفت کر رہا تھا اور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششیں جاری تھیں جبکہ ایران نے معاہدے اور امریکی وارننگز کو نظر انداز کیا۔امریکی صدر نے بتایا کہ ایران پر مزید بڑے حملے کے لیے 4 سے 5 ہفتوں کا ہدف رکھا گیا ہے اور امریکا کے پاس اس مدت کو بڑھانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوہری صلاحیت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور امریکا اپنی اور اتحادی ممالک کی حفاظت کے لیے بھرپور کارروائی جاری رکھے گا۔