اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے مالی معاملات سے متعلق ایک اہم آڈٹ اعتراض سامنے آگیا، جہاں حکام کی جانب سے 2012-13 کے دوران ایک ارب 30 کروڑ 20 لاکھ روپے کے اخراجات کی کیش بک ریکارڈ موجود نہ ہونے کا معاملہ زیر بحث آیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق شاہدہ بیگم کی زیرصدارت پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے وزارت مذہبی امور کے مالی ریکارڈ سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ مالی سال کے دوران وزارت کی جانب سے ایک ارب 30 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تاہم اس رقم کے حوالے سے کیش بک تیار نہیں کی گئی، جس کے باعث اخراجات کا مکمل مالی ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کیش بک کا بروقت تیار اور اپ ڈیٹ ہونا مالی نگرانی اور سرکاری اخراجات کے ریکارڈ کا بنیادی تقاضا ہے لیکن مذکورہ معاملے میں کئی سال گزرنے کے باوجود ریکارڈ مکمل نہیں کیا گیا۔آڈٹ حکام نے اس صورت حال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیش بک 2013 میں اپ ڈیٹ ہونی چاہیے تھی مگر اب اسے مکمل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام نے موقف اختیار کیا کہ معاملے کو بدعنوانی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے،کیونکہ ان کے مطابق رقم میں کرپشن نہیں ہوئی بلکہ بنیادی مسئلہ کیش بک کو بروقت اپ ڈیٹ نہ کیا جانا ہے۔سیکریٹری مذہبی امور نے کمیٹی کو بتایا کہ کیش بک اپ ڈیٹ نہ کرنے کے ذمہ داروں کا تعین پہلے ہی کیا جا چکا تھا تاہم ماضی میں ذمہ دار اہلکاروں کے ساتھ نرمی برتی گئی،موجودہ صورتحال میں اب کیش بک کا ریکارڈ مکمل کرنا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے۔اجلاس کے دوران بلال مندوخیل نے بھی وزارت کے حکام کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بدعنوانی کا شبہ نہیں کیا جانا چاہیے تاہم آڈٹ حکام نے واضح کیا کہ اتنی بڑی رقم کے اخراجات کا ریکارڈ طویل عرصے تک نامکمل رہنا معمولی معاملہ نہیں اور اس میں ذمہ دار افراد کا تعین ضروری ہے۔آڈٹ حکام کا کہنا تھا کہ اگر ایک سرکاری ادارے کی کیش بک کئی برس تک اپ ڈیٹ نہ ہو تو اس سے مالی نگرانی کے نظام اور اندرونی کنٹرولز کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ معاملے کی مکمل جانچ کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
چیئرپرسن ذیلی کمیٹی شاہدہ بیگم نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔انہوں نے آڈٹ حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ معاملے کی تصدیق کرکے اپنی رپورٹ کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔شاہدہ بیگم نے کہا کہ سرکاری مالی معاملات میں ذمہ داری کا تعین انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اکثر معاملات میں ذمہ دار افراد کسی نہ کسی مرحلے پر بچ نکلتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کا پیسہ ضائع ہوتا جا رہا ہے اور مالی بے قاعدگیوں کے معاملات میں ذمہ داروں کا تعین نہ ہونا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ذیلی کمیٹی نے واضح کیا کہ ایک ارب 30 کروڑ 20 لاکھ روپے کے اخراجات سے متعلق ریکارڈ کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیش بک بروقت تیار اور اپ ڈیٹ کیوں نہیں کی گئی،اس میں تاخیر کے ذمہ دار کون تھے اور ماضی میں ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔یوں وزارت مذہبی امور کے مالی ریکارڈ سے متعلق یہ معاملہ محض کیش بک کی عدم تکمیل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سرکاری اداروں میں مالی نگرانی،ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور ذمہ داروں کے تعین کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔