لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)حلقہ ایل اے 37 جموں فور کے انتخابات کے حوالے سے مبینہ دھاندلی کے الزامات نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے، جہاں مرکزی مسلم لیگ کے رہنماوں نے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انتخابی بے ضابطگیوں کے سنگین دعوے کرتے ہوئے ویڈیو اور دستاویزی شواہد پیش کر دیے۔رہنماوں نے نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے تحقیقات اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے رہنماوں نے سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کے ہمراہ حلقہ ایل اے 37 جموں فور کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں،انتظامی بے ضابطگیوں اور سرکاری مشینری کے استعمال کے الزامات عائد کرتے ہوئے متعدد ویڈیو اور دستاویزی شواہد میڈیا کے سامنے پیش کیے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ نارووال میں انتخابی عمل کے دوران سنگین بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں،ووٹوں کی گنتی کے مرحلے پر پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکال دیا گیا جبکہ امیدواروں اور الیکشن ایجنٹس کو کنسولیڈیشن کے عمل سے بھی دور رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ فارم 45 سے فارم 47 تک کے مراحل کو شفاف انداز میں مکمل نہیں ہونے دیا گیا،جس سے انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی مسلم لیگ کے پاس ویڈیوز،فارم اور دیگر دستاویزی شواہد موجود ہیں،جنہیں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی پارٹی کی جانب سے شکایات جمع کرائی گئی تھیں تاہم ان پر موثر کارروائی نہیں کی گئی۔
اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران نارووال میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں،جن کے ٹھوس شواہد پارٹی کے پاس موجود ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً سات منٹ پر مشتمل ویڈیو میں مختلف پولنگ سٹیشنز پر ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کے مطابق متعدد پولنگ سٹیشنز پر پولیس نے پولنگ ایجنٹس کو کاونٹنگ سے قبل باہر نکال دیا جبکہ پولنگ کے دوران بھی پولیس کی موجودگی میں غیرقانونی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر جعلی انتخابی مواد اور مہروں کے استعمال کے شواہد دکھائے گئے۔
مرکزی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار عثمان علیم نے دعویٰ کیا کہ انہیں واضح برتری حاصل تھی تاہم ان کے 61 پولنگ سٹیشنز کے فارم 24 فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج میں رد و بدل کے ذریعے ان کے مینڈیٹ کو متاثر کیا گیا۔پریس کانفرنس کے دوران مرکزی مسلم لیگ کی قیادت نے مطالبہ کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں،ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور اگر ضرورت پڑے تو متعلقہ حلقے میں شفاف انداز میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔رہنماوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ قانونی اور آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہر فورم پر اپنے موقف کا دفاع جاری رکھیں گے اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔