Home » آزاد کشمیر میں دھاندلی کا شور،فارم 47 سے فارم 47 پلس تک،شرجیل میمن نے گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کر دیا

آزاد کشمیر میں دھاندلی کا شور،فارم 47 سے فارم 47 پلس تک،شرجیل میمن نے گٹھ جوڑ کا پردہ چاک کر دیا

by ahmedportugal
23 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد سیاسی فضا شدید تناو کا شکار ہو گئی ہے،جہاں نتائج کے ساتھ ہی دھاندلی کے الزامات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما شرجیل انعام میمن نے انتخابی عمل کو متنازع قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ محض نتائج نہیں بلکہ ایک منظم گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہیں،جس کا مقصد عوامی مینڈیٹ کو متاثر کرنا تھا۔انہوں نے انتخابی عمل کو ”فارم 47 سے فارم 47 پلس“ تک کا تسلسل قرار دیتے ہوئے شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں،جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ردعمل اور بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق  سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کی گئی اور الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کو ہرانے کے لیے مبینہ طور پر ن لیگ،وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ کیا گیا جبکہ الیکشن کمیشن شروع دن سے جانبدارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے تھا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر بھی غیر جانبدار کردار ادا کرنے کے بجائے ایک جماعت کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات میں اصل ترجیح جمہوری عمل کو دی جانی چاہیے تھی نہ کہ کسی ایک جماعت کو کامیاب کرانے کو تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی آخری مرحلے تک سیاسی میدان میں موجود رہے گی اور ہر قسم کے دباو اور گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرے گی۔شرجیل میمن نے انتخابی عمل کو سابقہ روایت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی طرزِ عمل ہے جو ماضی میں بھی دیکھنے میں آیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے موقف کو دلائل کے ساتھ آگے بڑھائے گی اور کسی بھی غیر پارلیمانی زبان سے گریز کرے گی۔

اس موقع پر چوہدری یاسین نے بھی انتخابی بے ضابطگیوں کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کیے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں مختلف پولنگ سٹیشنز سے شکایات موصول ہوئیں کہ ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور بعض مقامات پر غیر معمولی حد تک ووٹ ڈالے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض پولنگ سٹیشنز پر ووٹنگ کا تناسب 85 سے 99 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ رات گئے تک ووٹ ڈالنے کا عمل جاری رہا اور صبح نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ انتخابی عمل سے قبل ہی مبینہ دھاندلی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور بعض مقامات پر غیر متعلقہ افراد نے ووٹنگ کے عمل میں مداخلت کی۔ پیپلزپارٹی رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز