اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ قومی کانفرنس میں سیاسی رہنماوں،وکلا،صحافیوں،دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے متفقہ طور پر مفاہمت کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کو اس جدوجہد میں مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی،کانفرنس میں آئینی ترامیم کو مسترد، پارلیمنٹ کو بے اختیار بنانے،عدلیہ کو کمزور کرنے اور اظہارِ رائے پر قدغنوں کی شدید مذمت کی گئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکلنے کے لیے قومی مکالمہ ناگزیر ہے تاہم سیاسی انتقام،سزاوں اور ملاقاتوں پر پابندیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اہل خانہ اور سیاسی قائدین سے ملاقات کا حق دیا جائے اور 8 فروری کے انتخابات میں جسے عوامی مینڈیٹ ملا،اسے تسلیم کیا جائے۔
سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی نے کہا کہ آزادی قربانیوں سے ملتی ہے، نعروں سے نہیں، قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ جدوجہد اور صبر کے بغیر حقوق حاصل نہیں ہوتے، پیچھے ہٹنے کا راستہ مزید غلامی کی طرف لے جاتا ہے۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ غیر متوقع تھا اور یہ محض ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ قوم نے کرنا ہے کہ اس جبر کو مزید برداشت کرنا ہے یا اس کے خلاف کھڑا ہونا ہے،بانی پی ٹی آئی نے سٹریٹ موومنٹ کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اب احتجاج اور مزاحمت کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا،اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم خوفزدہ ہو جائیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے قائد کے لیے میرٹ پر انصاف چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ مصنوعی اکثریت کے ذریعے آئین میں کی گئی ترامیم واپس لینا ہوں گی،عدلیہ کی آزادی سلب کی جا چکی ہے اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں رہا۔انہوں نے تمام سیاسی قوتوں،میڈیا اور سول سوسائٹی کو قومی ایجنڈے پر متحد ہونے کی اپیل کی۔وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے اور عوام کے مینڈیٹ پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ظالم اور جابر کے سامنے مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت ہی واحد راستہ ہوتی ہے،اگر پی ٹی آئی مزاحمت کا فیصلہ کرے تو وہ شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ملک میں مینڈیٹ چوری کیا گیا،عدلیہ کمپرومائز ہوئی اور آئینی توازن بگاڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات یا مزاحمت کا اختیار محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا جا چکا ہے اور بانی پی ٹی آئی سمیت کروڑوں ووٹر ان کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتیں فیصلے تو کر رہی ہیں مگر انصاف فراہم نہیں ہو رہا،سیاسی جماعتوں کو آلہ کار بنانے کے بجائے جمہوریت مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ ملک میں غیر اعلانیہ نہیں بلکہ اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے،میڈیا،عدالتیں اور حکومت سب کنٹرول میں ہیں،ایسے حالات میں اعلان کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔دیگر صحافیوں نے پیکا ایکٹ اور اظہارِ رائے پر قدغنوں کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔کانفرنس کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئین،عدلیہ کی آزادی، آزاد میڈیا اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس جدوجہد کو ہر فورم اور ہر سطح پر جاری رکھا جائے گا۔