پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک)افغانستان کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے دینی قیادت نے دہشتگردی کو قطعی طور پر حرام قرار دے دیا ہے اور افواجِ پاکستان کو اسلام، وطن اور امن کی محافظ قوت قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے ملک کو درپیش دہشتگردی کے چیلنج کے تناظر میں متفقہ اور فیصلہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے آئندہ جمعہ کو ملک بھر میں ”یومِ پیغامِ پاکستان“ منانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد قومی اتحاد کو مضبوط بنانا، امن کے بیانیے کو فروغ دینا اور فتنہ و فساد کے خلاف واضح دینی موقف عوام تک پہنچانا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق گورنر ہاوس خیبر پختونخوا میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام ایک اہم اور غیر معمولی پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دہشتگردی کے خلاف متفقہ دینی موقف پیش کرتے ہوئے ملک بھر میں آئندہ جمعہ کو ”یومِ پیغامِ پاکستان“ منانے کا اعلان کیا گیا۔پریس کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور امن،اتحاد اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ حافظ طاہر اشرفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل صریحاً حرام ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ”پیغامِ پاکستان“ آئین پاکستان کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے کی دستاویز ہے جس پر 15 ہزار سے زائد علما و مشائخ کے دستخط موجود ہیں اور یہ ملک میں امن،ہم آہنگی اور اتحاد کی ضامن ہے۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ افواجِ پاکستان کا مقصد ایمان،تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہے،فوج نہ روٹی مانگتی ہے اور نہ گھر بلکہ اللہ سے شہادت مانگتی ہے،جب ہمارے بچے شہید ہو کر قومی پرچم میں لپٹے واپس آتے ہیں تو قوم غم کے ساتھ فخر بھی محسوس کرتی ہے اور شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم اور فوج کے اتحاد سے ہی جنگیں جیتی جاتی ہیں اور جیسے پاکستان نے ماضی میں دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی،ویسے ہی دہشتگردی کے خلاف بھی فتح حاصل کرے گا۔پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو دہشتگردی کا سب سے بڑا نشانہ قرار دیتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور ملک دشمن قوتیں ان علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتی ہیں تاہم خیبر پختونخوا کے عوام افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی تقریباً 70 فیصد دہشتگردی سرحد پار عناصر سے منسلک ہے،اس لیے خطے میں امن کے لیے سرحد پار دہشتگردی کے سدِباب کے لیے موثر اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے افغان طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ انہیں دہشتگردی اور امن میں سے ایک راستہ چننا ہو گا،ہم نے ہمیشہ افغانستان کے امن کو اپنا امن سمجھا،اب وقت آ گیا ہے کہ افغان حکومت بھی پاکستان کے امن کے لیے عملی کردار ادا کرے،کیا ہماری قربانیوں کا صلہ دہشتگردی کی صورت میں دیا جائے گا؟۔پریس کانفرنس میں مفتی عبد الرحیم سمیت دیگر علما نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں اور خوارج کی حمایت دینی طور پر نا قابلِ قبول اور اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔مقررین نے افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاستی اداروں کی حمایت ہر پاکستانی کا دینی اور قومی فریضہ ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اعلان کیا کہ جہاں جہاں امن کی ضرورت ہو گی،وہاں کمیٹی کے وفود دورے کریں گے اور عوام میں شعور بیدار کیا جائے گا۔پریس کانفرنس کے اختتام پر ملک بھر میں آئندہ جمعہ کو ”یومِ پیغامِ پاکستان“ منانے، دہشتگردی کے خلاف اجتماعی موقف اجاگر کرنے اور امن،اتحاد و ہم آہنگی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
افغانستان کو دو ٹوک پیغام،دہشتگردی حرام،افواج پاکستان اسلام و امن کی محافظ،دینی قوتوں کا فیصلہ کن موقف،جمعہ کو یوم پیغام پاکستان منانے کا فیصلہ
4