لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)ضلع کچہری لاہور کی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار نیوز اینکر ریحان طارق کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں تفتیشی ادارے کے حوالے کر دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی درخواست پر سماعت کی، جس دوران تفتیشی حکام نے موقف اختیار کیا کہ ملزم سے مزید تفتیش،موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا فرانزک تجزیہ کرانا ہے تاکہ کیس سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ریحان طارق کے خلاف مقدمہ ڈپٹی ڈائریکٹر رضوان صابر کی مدعیت میں درج کیا گیا،جس میں توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق ملزم کے آفیشل پیج پر اہل تشیع عالم علامہ جواد نقوی سے نشر کیے گئے ایک انٹرویو میں بعض ایسے سوالات کیے گئے جنہیں درخواست گزار نے انتہائی حساس اور متنازع قرار دیا۔عدالت نے تفتیشی حکام کی استدعا منظور کرتے ہوئے ریحان طارق کا چھ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا جبکہ آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔سماعت کے موقع پر ریحان طارق کو عدالت میں پیش کیا گیا،جہاں انہوں نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔اس موقع پر ان کے حامیوں کی جانب سے بھی اظہارِ حمایت میں نعرے بازی کی گئی۔ذرائع کے مطابق ریحان طارق کے ایک علامہ جواد نقوی سے پوڈکاسٹ انٹرویو سے متعلق این سی سی آئی اے کو درخواستیں موصول ہوئی تھیں،جس کے بعد انہیں گذشتہ شب برطانیہ سے وطن واپسی پر لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔حکام کے مطابق مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور فرانزک رپورٹس سمیت دیگر شواہد کی بنیاد پر آئندہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
توہین مذہب اور پیکا ایکٹ کیس،نیوز اینکر ریحان طارق کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
44