اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توجہ کے مرکز بننے والی صورتحال کے دوران پاکستان نے سفارتی محاذ پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں،جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے درمیان اہم ملاقات نے امن کی کوششوں کو نئی جہت دے دی ہے،اس پیش رفت کو نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے استحکام بلکہ وسیع تر علاقائی امن کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے،جو آئندہ سفارتی عمل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اہم ملاقات کی،جس میں دو طرفہ تعلقات،خطے کی تازہ صورتحال اور امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر غور کیا گیا جبکہ دونوں رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی استحکام اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔ملاقات کے دوران جاری سفارتی عمل کو مزید موثر بنانے اور کسی جامع و حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیر اعظم سینیٹر اسحاق ڈار،وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی شریک تھے،جہاں اعلیٰ سطح پر مشاورت کے ذریعے خطے میں امن کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور اسی تناظر میں یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کو وقتی طور پر موخر کیا جا رہا ہے،جس میں پاکستان کی قیادت کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔اس پیش رفت کے بعد سفارتی سطح پر سرگرمیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق وزیر اعظم اور ایرانی سفیر کی یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے استحکام بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں کی عکاسی کرتی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔