لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں مون سون کی غیر معمولی شدت کے باعث گزشتہ چار روز کے دوران ریکارڈ بارشوں نے صوبے کے بیشتر اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،جہاں لاہور سب سے زیادہ متاثر شہر کے طور پر سامنے آیا ہے،صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)کے مطابق شدید بارشوں کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرِ آب آئے جبکہ نکاسی آب کا نظام ایک بڑے امتحان سے دوچار رہا تاہم حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے متحرک ہو کر پانی کی فوری نکاسی اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا جبکہ متعدد شہروں میں ریکارڈ بارشیں ریکارڈ کی گئیں،پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 383 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی،جس کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اعداد و شمار کے مطابق گجرانوالہ میں 328،سیالکوٹ میں 321،نارووال میں 270،مری میں 211،منڈی بہاوالدین میں 177،گجرات میں 144 اور جہلم میں 115 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح حافظ آباد میں 108،منگلا 102،چکوال 96،شیخوپورہ 85،اوکاڑہ 72،جھنگ 66، ٹوبہ ٹیک سنگھ 57،اٹک 56،قصور 52،راولپنڈی 47،لیہ 35 اور ساہیوال میں 34 ملی میٹر بارش رپورٹ ہوئی جبکہ دیگر اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ حکام کے مطابق شدید بارشوں کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر دریاوں،ڈیمز اور بیراجز کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں کے اطراف حفاظتی انتظامات کو مزید موثر بنایا گیا ہے۔سیف سٹی کیمروں کے ذریعے بھی اہم شہروں کی صورتحال کی نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 41 اضلاع میں واسا سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے ایک ہزار سے زائد مشینری اور عملہ متحرک رکھا گیا،جس کے باعث بارشی پانی کی نکاسی کا عمل تیز کیا گیا اور کئی علاقوں میں ہفتوں کے بجائے چند گھنٹوں میں پانی صاف کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق وزیراعلیٰ کی قیادت میں بروقت اقدامات کے باعث شدید بارشوں کے باوجود نکاسی آب کے عمل کو کم سے کم وقت میں یقینی بنایا گیا جبکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور نقصانات کے ازالے کے لیے اقدامات بھی جاری ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران نہروں،دریاوں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور کمزور یا خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ خطرناک عمارتوں اور کمزور چھتوں کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔