اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کے تناظر میں وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرتے ہوئے رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع کردی جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور بھی شروع ہوگیا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق اسلام آباد میں 3 ہزار پاکستان رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی 5 اکتوبر کے بجائے اب 15 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گی۔اسلام آباد انتظامیہ نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید دس روز کی توسیع کی درخواست کی تھی،جس کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے منظوری دی گئی۔رینجرز کی موجودہ تعیناتی کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے،اہم تنصیبات اور حساس مقامات کی حفاظت اور ممکنہ احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی انتظامات کو موثر بنانا ہے۔اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد دارالحکومت کے مختلف داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر سکیورٹی انتظامات بھی بڑھائے گئے ہیں۔اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی ابتدائی طور پر 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک کی گئی تھی تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کا لانگ مارچ موخر کرکے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیے جانے کے بعد سکیورٹی انتظامات برقرار رکھے گئے۔
پی ٹی آئی نے 25 ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گا۔رینجرز کی تعیناتی میں توسیع ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک طرف سیاسی مذاکرات جاری ہیں جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف نے تاحال 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان کو واپس نہیں لیا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 2 اکتوبر کو قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہوا تھا،جس میں دونوں جانب سے اپنے اپنے موقف اور مطالبات پیش کیے گئے۔مذاکرات کا دوسرا دور 3 اکتوبر کو سپیکر چیمبر میں شروع ہوا۔فریقین نے مذاکرات کو آگے بڑھانے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھی ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات میں پارٹی کے بانی عمران خان تک رسائی،ان کی صحت اور طبی علاج سے متعلق مطالبات کو اہمیت دی جارہی ہے۔دوسری جانب حکومتی وفد کی جانب سے لانگ مارچ واپس لینے یا موخر کرنے کی شرط کو مذاکرات میں مرکزی معاملے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنے بنیادی مطالبات مذاکرات کی میز پر رکھ چکی ہے اور آج بھی انہیں واضح طور پر پیش کیا جائے گا،اسیران کی رہائی اور عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر پارٹی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ پارٹی کے بانی تک رسائی ہے اور وہ آئین،انصاف اور سیاسی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں،اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔مذاکرات کے پہلے دور کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومتی اور اپوزیشن نمائندوں نے ایک دوسرے کے موقف سے آگاہی حاصل کی اور قومی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں جانب سے بات چیت کو تعمیری اور خوشگوار ماحول میں آگے بڑھانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو پرامن رکھنے کے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاج آئینی اور سیاسی حق کے طور پر کیا جارہا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت کے داخلی راستوں اور اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے کے ساتھ رکاوٹوں اور دیگر حفاظتی اقدامات میں بھی اضافہ کیا ہے،پنجاب اور سندھ پولیس کی اضافی نفری بھی سکیورٹی انتظامات کا حصہ ہے۔یوں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے ایک روز قبل صورتحال میں بیک وقت دو اہم پہلو نمایاں ہیں؛ ایک طرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیاسی تعطل ختم کرنے کی کوشش جاری ہے اور دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات کو مزید توسیع دی گئی ہے۔آئندہ مذاکرات اور پی ٹی آئی کے مارچ سے متعلق فیصلے ہی اس صورتحال کی سمت واضح کریں گے۔