لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل یا صوبوں کی تقسیم کا معاملہ جب پارلیمنٹ میں آئے گا تو تمام سیاسی جماعتوں اور ارکان کو اپنی اپنی رائے دینے کا موقع ملے گاجبکہ اس معاملے پر پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی تشکیل دیے جانے کا بھی امکان ہے،صوبوں سے متعلق کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں چھ سے آٹھ ماہ لگ سکتے ہیں اور بحث کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس،بلدیاتی نظام یا کوئی اور تجویز سامنے آسکتی ہے تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق لاہور میں سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک مشاورتی نشست میں رانا ثناءاللہ خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی اور ملک میں صوبوں کی تقسیم،نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق جاری بحث پر تفصیلی گفتگو کی۔ملاقات میں پنجاب اسمبلی کے چیف وہپ رانا ارشد،مسلم لیگ ن کے رہنماوں زبیر گل،رانا عمران،غلام مصطفی اور ڈاکٹر سعید الٰہی بھی موجود تھے جبکہ سینئر صحافی سہیل وڑائچ،سلیم بخاری،محمد عثمان،حفیظ اللہ نیازی،نوید چوہدری،پرویز بشیر،منصور علی خان،سلمان غنی،نجم ولی،محمد عاصم نصیر،احمد بلال محبوب،سلمان حسن،اظہر جاوید،محمد نوشاد علی، یاسر شامی،گوہر بٹ،عمر اسلم،حسین پراچہ اور عثمان شامی سمیت دیگر نے بھی شرکت کی۔
صوبوں کی تقسیم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے سوال اٹھایا کہ نئے صوبوں کے مبینہ منصوبے پر اگر اس کے محرکین نے مسلم لیگ ن سے بات کی ہے تو یہ ممکن نہیں کہ جماعت محض اس بنیاد پر مخالفت میں کھڑی ہوجائے کہ اسے ابھی تک باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں متعارف نہیں کرایا گیا،اصل سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ اقتصادی فورم سے کیوں شروع کیا گیا؟اقتصادی فورم اس نوعیت کے آئینی اور سیاسی منصوبوں کو شروع کرنے کا مناسب پلیٹ فارم نہیں، صوبوں کی تقسیم کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور جب یہ پارلیمنٹ میں آئے گا تو تمام فریقین اپنی رائے پیش کریں گے،اس کے بعد معاملہ پارلیمانی کمیٹی یا قائمہ کمیٹی کو بھیجا جاسکتا ہے،جس طرح ماضی میں 18ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،صوبوں کی تشکیل یا تقسیم جیسے معاملے پر پارلیمانی کارروائی کو مکمل ہونے میں چھ سے آٹھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اس بحث کا نتیجہ لازماً نئے صوبوں کی صورت میں ہی نکلے،یہ ضروری نہیں،پارلیمانی غوروفکر کے دوران نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ سامنے آسکتا ہے،بلدیاتی انتخابات اور اختیارات کی تقسیم پر بات ہوسکتی ہے یا ممکن ہے کہ کوئی حتمی پیش رفت ہی نہ ہو،اس وقت کسی نتیجے کے بارے میں حتمی بات کرنا درست نہیں ہوگا کیونکہ اصل فیصلہ پارلیمنٹ میں بحث اور مشاورت کے بعد ہی سامنے آسکتا ہے۔مسلم لیگ ن کے اندر صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر پائی جانے والی رائے کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پنجاب میں جماعت کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب کے مجوزہ صوبے کے ساتھ شامل کرنے کے حق میں نہیں،بعض حلقے بہاولپور کو الگ صوبہ بنانے کے حامی ہیں جبکہ بعض اسے لاہور کے ساتھ رکھنے کی رائے رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کے حق میں اب تک کوئی بڑی اور واضح بات سامنے نہیں آئی اور چونکہ ن لیگ نے خود یہ منصوبہ شروع نہیں کیا،اس لیے جماعت کی موجودہ لائن کو اسی تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔
رانا ثناءاللہ نے سیاسی طور پر صوبوں کے معاملے سے پیپلز پارٹی کو حاصل ہونے والے فائدے کا بھی ذکر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کے کارکن جذباتی انداز میں اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔انہوں نے کینال منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے منصوبے کی حمایت کی تھی تاہم عوامی احتجاج کے بعد اسے بند کروا دیا گیا،اس معاملے سے پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر فائدہ حاصل ہوا۔بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ رابطوں سے متعلق سوال پر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ممکن ہے ان کے ساتھ پس پردہ گفتگو ہورہی ہو تاہم اس نوعیت کی گفتگو یا کسی سیاسی راستے کو اختیار کرنے کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے اور جو فریق اسے اپنائے گا اسے وہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔دوسری جانب تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی مسلح ہوکر اسلام آباد آنے کی تیاری کررہی ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اطلاعات ہیں کہ فتنہ الخوارج،جنہیں انہوں نے بھارت کے سپانسرڈ قرار دیا،تحریک انصاف کی ریلی کو نشانہ بناکر حکومت اور عوام کے درمیان مزید دوری پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں،اگر ایسا ہوا تو تحریک انصاف کا احتجاج بری طرح ناکام ہوجائے گا۔
انہوں نے اس موقع پر نئے صوبوں کے معاملے کو سیاسی فورمز پر زیر بحث لانے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ ایسے اہم آئینی و انتظامی معاملات پر باقاعدہ بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے،جب معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا تو ہر سیاسی جماعت اور رکن کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہو گا اور اس کے بعد ہی یہ واضح ہو گا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کس نوعیت کی تبدیلی ممکن ہے۔وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے صوبوں سے متعلق سامنے آنے والے موقف کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جب وفاقی وزیر داخلہ کابینہ یا سینیٹ میں اس معاملے پر بات کریں گے تو ان سے اس حوالے سے جواب لیا جاسکتا ہے،کسی بھی بڑے آئینی معاملے پر حتمی پالیسی متعلقہ آئینی اور پارلیمانی فورمز پر سامنے آنی چاہیے۔
سینئر صحافیوں کے ساتھ ہونے والی اس اہم ملاقات میں رانا ثناءاللہ نے ایک طرف نئے صوبوں کے معاملے کو پارلیمانی بحث سے مشروط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ فیصلہ فوری طور پر نہیں ہوگا جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے اندر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے مختلف آرا کی موجودگی کا بھی اشارہ دیا۔ان کے موقف سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ اگر پارلیمنٹ تک پہنچتا ہے تو اس پر طویل سیاسی اور آئینی بحث متوقع ہے،جس کے نتیجے میں صرف صوبوں کی تشکیل ہی نہیں بلکہ نئے انتظامی یونٹس اور بلدیاتی نظام سے متعلق تجاویز بھی زیر غور آسکتی ہیں۔