اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیر اعظم کے معاون خصوصی رانا ثناءاللہ نے ملک کے سیاسی و آئینی نظام سے متعلق اٹھنے والے سوالات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا نظام مستحکم ہے اور اسے تباہ قرار دینا حقائق کے برعکس ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غیر واضح اور بے سیاق قرار دیا،جس کے بعد حکومتی حلقوں میں اس معاملے پر بحث نے شدت اختیار کر لی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق سینیٹررانا ثناءاللہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر محسن نقوی کے حالیہ بیان کو بے معنی اور سیاق و سباق سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا نظام تباہ ہونے کی بات حقائق کے منافی ہے،پاکستان ایک آئینی پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت چل رہا ہے اور اسی نظام نے وفاق کو قائم رکھا ہوا ہے۔رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ اگر انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی بات کی جا رہی ہے تو یہ بھی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق مسائل کے حل کے لیے انتظامی اصلاحات،نئے صوبوں یا بااختیار بلدیاتی نظام پر بات کی جا سکتی ہے تاہم یہ تمام اقدامات آئینی حدود کے اندر ہی کیے جا سکتے ہیں اور اس سے باہر جانے کا کوئی جواز نہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 1973 کا آئین ایک متفقہ قومی دستاویز ہے جس پر ملک کے بانی رہنماوں نے اتفاق کیا اور یہی نظام پاکستان کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام کی طرف جھکاو کی باتیں اپنی جگہ لیکن ملک نے بالآخر جمہوری نظام کے تحت ہی آگے بڑھنا ہے اور اس میں کسی ہائبرڈ ماڈل کی گنجائش نہیں۔
رانا ثناءاللہ نے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان باہمی احترام کو ملک کی حالیہ کامیابیوں کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی ہم آہنگی کے نتیجے میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔انہوں نے کہا کہ بعض آئینی ترامیم، جن میں 26ویں اور 27ویں ترامیم شامل ہیں، وقت کی ضرورت تھیں اور انہیں قومی مفاد میں متعارف کرایا گیا۔ محسن نقوی کے بیان کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اس پر پارٹی سطح پر بات کی جائے گی اور وضاحت طلب کی جائے گی۔آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ انتخابات شفاف انداز میں منعقد ہوئے اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ان کے مطابق بعض عناصر انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے تاہم ریاستی اداروں اور عوامی عزم کے باعث یہ کوششیں ناکام رہیں۔انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ملک کا نظام کمزور ہو چکا ہے اور کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی جیسے بڑے چیلنجز پر قابو پا چکا ہے اور مستقبل میں بھی ایسے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔