نئی دہلی(ایگزو نیوز ڈیسک)بالی ووڈ کے معروف مزاحیہ اداکار راجپال یادو کو کروڑوں روپے کے چیک باونس کیس میں بڑا قانونی دھچکا لگ گیا،دہلی ہائی کورٹ نے سات مقدمات میں انہیں تین ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے بھاری مالی ادائیگی کا حکم بھی دے دیا۔عدالت کے فیصلے کے بعد اداکار کو نہ صرف قانونی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ تقریباً 9 کروڑ روپے کے مالی تنازع کو بھی حل کرنا ہو گا،جو 2012 میں ان کی فلم ”اتا پتا لاپتا“ سے جڑے مالی معاملات کے بعد شروع ہوا تھا۔
ایگزو نیوز کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو تقریباً 9 کروڑ روپے کے چیک باونس کیس میں بڑا قانونی جھٹکا دیتے ہوئے سات مقدمات میں الگ الگ تین ماہ قید کی سزا سنا دی ہے جبکہ عدالت نے اداکار کو شکایت کنندگان کی واجب الادا رقم ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔عدالت کے فیصلے کے مطابق راجپال یادو کو ہر مقدمے میں تین ماہ قید کی سزا بھگتنا ہو گی جبکہ ہر کیس میں شکایت کنندہ کو ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے اور ریاست کو 25 ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یوں ساتوں مقدمات میں اداکار پر بھاری مالی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہےعدالت نے راجپال یادو کی اہلیہ رادھا یادو کو بھی ہر مقدمے میں 5 لاکھ 51 ہزار 380 روپے شکایت کنندہ کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اداکار کی جانب سے پہلے ہی ادا کیے گئے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے واجب الادا رقم میں شامل کر لیے جائیں گے۔سماعت کے دوران عدالت نے معاملے کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے کئی کوششیں کیں جبکہ شکایت کنندہ نے تقریباً 6 کروڑ روپے میں تصفیے کی پیشکش بھی کی تاہم راجپال یادو نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔اداکار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ پہلے ہی مالی مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں،جائیداد فروخت کر چکے ہیں اور بڑی رقم ادا کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم ”اتا پتا لاپتا“ کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے مالی تنازع سے شروع ہوا تھا۔فلم سے متعلق مالی معاملات اور واجبات بعد ازاں چیک باونس کیسز میں تبدیل ہو گئے،جن کی مجموعی رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ چیک باونس سے متعلق مالی ذمہ داریاں صرف سزا تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ قید کی سزا مکمل ہونے کے بعد بھی واجب الادا رقم کی ادائیگی لازم رہے گی۔عدالتی فیصلے کے بعد راجپال یادو کو نہ صرف قانونی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ بھاری مالی ادائیگی بھی کرنا ہوگی۔