کوئٹہ(ایگزو نیوز ڈیسک)کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے رہنما صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت ون کے جج محمد علی مبین نے سنایا،جس میں دونوں رہنماوں کو گوادر میں ایک احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ دیگر گرفتار رہنماوں اور ان کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق بی وائے سی کے رہنما 12 جون سے ڈسٹرکٹ جیل ہدہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں اور انہوں نے سرکاری طور پر مقرر کردہ وکلا کو بھی مسترد کر دیا تھا۔استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ 2024 میں گوادر میں منعقد ہونے والے ’بلوچ راجی مچی‘ نامی اجتماع اور اس کے بعد ہونے والے احتجاجی دھرنے سے متعلق ہے،جہاں ایک سیکیورٹی اہلکار شبیر مبینہ طور پر پتھر لگنے سے جاں بحق ہوا تھا۔ریاستی موقف کے مطابق اس واقعے کی ذمہ داری ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں پر عائد کی گئی، جبکہ مقدمے کے دوران انہیں باقاعدہ طور پر نامزد کر کے شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اور تفتیشی رپورٹ کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم ہوا،جس میں نہ صرف اہلکار ہلاک ہوا بلکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔اسی تناظر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا اور فیصلہ سنایا گیا۔
دوسری جانب دفاعی وکلا اور اہل خانہ نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر شفاف قرار دیا ہے۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن اور وکیل نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران بنیادی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور یہ ایک “فیس لیس عدالت” کا فیصلہ ہے۔ان کے مطابق جس شخص پر براہِ راست قتل کا الزام تھا،اسے پہلے ہی بری کر دیا گیا جبکہ تقریر کرنے والوں کو سزا سنائی گئی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائے سی کے دیگر رہنما بلوچستان میں جبری گمشدگیوں،انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے خلاف ایک طویل احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔اس دوران مختلف شہروں میں لانگ مارچ،دھرنے اور مظاہرے بھی کیے گئے،جن کے دوران متعدد مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے،جن میں سریاب روڈ پر احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی، پولیس پر حملے،فائرنگ اور تین افراد کی ہلاکت کے الزامات شامل ہیں۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے مبینہ طور پر ریاست مخالف نعرے بازی کی،توڑ پھوڑ کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے۔مزید برآں کوئٹہ کے سول ہسپتال کے مردہ خانے سے لاشیں زبردستی نکالنے کے الزام میں بھی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد بلوچستان کی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اس کیس کے اثرات ملکی سیاست اور سماجی حلقوں میں نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔