دوحہ(ایگزو نیوز ڈیسک)خلیج کے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملے کے واقعے پر قطر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ایران کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور اسے بین الاقوامی بحری سلامتی،عالمی توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آئل ٹینکر کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے،خاص طور پر وہ قوانین جو عالمی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ،محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کو یقینی بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ماجد الانصاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قطر اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مکمل ذمہ داری ایران پر عائد کرتا ہے اور تہران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے تمام اقدامات بند کرے جو بین الاقوامی بحری جہاز رانی،توانائی کی عالمی سپلائی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس اور سٹریٹجک بحری راستے میں اس نوعیت کے واقعات عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہیں،کیونکہ یہ راستہ دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور بحری سلامتی کو یقینی بنانا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قطری حکام کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف علاقائی امن و استحکام کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں،اس لیے فوری اور موثر اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ صورتحال مزید کشیدہ ہونے سے بچائی جا سکے۔