Home » پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری تنازع شدت اختیار کر گیا،متاثرین اور انتظامیہ آمنے سامنے،تحقیقات پر نئی بحث چھڑ گئی

پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری تنازع شدت اختیار کر گیا،متاثرین اور انتظامیہ آمنے سامنے،تحقیقات پر نئی بحث چھڑ گئی

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری منصوبے کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے،جہاں متاثرین،یونیورسٹی انتظامیہ اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے احتساب کے عمل کو روکنے کی کوشش قرار دیا ہے۔متاثرین کے مطابق ٹاون تھری منصوبے سے متعلق حقائق سامنے آنے اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے تحقیقات کا عمل شروع ہوتے ہی بعض عناصر کی جانب سے دباو اور رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قیام کا مقصد مبینہ طور پر اصل معاملے سے توجہ ہٹانا اور احتساب کے عمل کو متاثر کرنا ہے۔متاثرین کا موقف ہے کہ پنجاب یونیورسٹی ٹاون تھری کا معاملہ محض ایک ہاوسنگ منصوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں اساتذہ، ملازمین اور ان کے خاندانوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی، امیدوں اور ادارے پر اعتماد سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ان کے مطابق کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود متعدد متاثرین کو پلاٹس فراہم نہیں کیے جا سکے جبکہ منصوبے میں استعمال ہونے والے اربوں روپے کے وسائل سے متعلق کئی سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔

متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی مکمل تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں،ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی قسم کی مالی یا انتظامی بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں احتجاجی نعروں کے بجائے شفاف تحقیقات اور عملی انصاف درکار ہے۔دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی کی مختلف ایسوسی ایشنز نے 17 جولائی کو مشترکہ طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی،جس میں پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال کو چیئرمین،چوہدری بشارت محمود کو صدر،طیب اعجاز خان کو سیکریٹری جنرل جبکہ پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد کو کنوینئر مقرر کیا گیا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے دیگر عہدیداران میں پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی،چوہدری گلفام ناصر،ڈاکٹر اسلم حیات اور رانا انتخاب عالم شامل ہیں جبکہ میڈیا کمیٹی میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن نیازی،پروفیسر ڈاکٹر کامران مرزا،ڈاکٹر ماجد علی،تنویر اعوان،حماد بٹ اور اظہر اقبال بلوچ کو شامل کیا گیا ہے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کے مسائل فوری حل کیے جائیں،مبینہ انتقامی کارروائیاں ختم کی جائیں،امتیازی رویوں کا خاتمہ کیا جائے اور یونیورسٹی میں شفافیت،میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک، دھرنے،قلم چھوڑ ہڑتال،کلاسوں کے بائیکاٹ سمیت دیگر جمہوری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آسا کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس اب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی، جس میں یونیورسٹی کے انتظامی و مالی معاملات، ٹاون تھری منصوبے اور دیگر اہم مسائل پر تفصیلی موقف پیش کیا جائے گا تاہم پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ دراصل ”کرپشن بچاو کمیٹی“ ہے۔ ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق کمیٹی میں شامل بعض اہم شخصیات کے خلاف مختلف الزامات پر انکوائریاں جاری ہیں اور کمیٹی کا اصل مقصد ان تحقیقات کو روکنا ہے۔یونیورسٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض گروپس کی وجہ سے ادارے کو مالی و انتظامی مشکلات کا سامنا رہا تاہم موجودہ انتظامیہ کسی دباو میں آئے بغیر قانونی تحقیقات جاری رکھے گی اور شفافیت و احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز