لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب کے محکمہ تعلیم نے صوبے بھر کے سرکاری کالجز میں تدریسی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 8 ہزار سے زائد ٹیچنگ انٹرنز بھرتی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ اقدام تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی ضرورت اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم پنجاب کے مطابق ان آسامیوں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد اور معذور افراد کے لیے 3 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے تا کہ شمولیتی پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔بھرتی کیے جانے والے انٹرنز کو 7 سے 10 ماہ کی مدت کے لیے تعینات کیا جائے گا،جس دوران ان سے تدریسی ذمہ داریاں سرانجام دینے کی توقع کی جائے گی۔درخواست دہندگان کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت بی ایس یا ماسٹرز ڈگری مقرر کی گئی ہے تا ہم ایم فل یا پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔مزید برآں،امیدواروں کی سہولت کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی تا کہ زیادہ سے زیادہ اہل افراد اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 26 سرکاری سکول مزید دو دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ان سکولوں کو طلبہ اور عملے کی حفاظت کے پیش نظر عارضی طور پر بند کیا گیا ہے اور حالات بہتر ہوتے ہی تعلیمی سرگرمیاں بحال کر دی جائیں گی۔محکمہ تعلیم پنجاب کا موقف ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف تدریسی عمل کو فعال بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ بے روزگار تعلیم یافتہ افراد کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔صوبائی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری کالجز میں تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور طلبہ کو بہتر رہنمائی اور تدریسی سہولیات میسر آئیں گی۔
پنجاب کے سرکاری کالجز میں سٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے 8 ہزار سے زائد ٹیچنگ انٹرنز بھرتی کی منظوری
16