Home » پنجاب پولیس میں بڑی تبدیلیاں،12 ارب کے باڈی کیمز،جدید ٹیکنالوجی اور خود احتسابی نظام،آئی جی راو عبدالکریم نے اہم تفصیلات بتادیں

پنجاب پولیس میں بڑی تبدیلیاں،12 ارب کے باڈی کیمز،جدید ٹیکنالوجی اور خود احتسابی نظام،آئی جی راو عبدالکریم نے اہم تفصیلات بتادیں

by ahmedportugal
21 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)انسپکٹر جنرل( آئی جی) پنجاب راو عبدالکریم نے کہا ہے کہ پولیسنگ کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی،موثر نگرانی،شفاف احتساب اور بہتر سروس ڈلیوری کے ذریعے نمایاں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جبکہ بدعنوانی، بدسلوکی اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز محکمانہ کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔

 


ایگزو نیوز کے مطابق لاہور پریس کلب میں منعقدہ پروگرام ”گیسٹ آف آنر“ میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راو عبد الکریم نے کہا کہ جرائم کی روک تھام،معاشرتی اصلاح اور عوام کو انصاف کی فراہمی میں کرائم رپورٹرز کا کردار انتہائی اہم ہے،جرائم کی نشاندہی،پولیس کو رہنمائی اور مشاورت فراہم کرنے کے حوالے سے کرائم رپورٹرز پنجاب پولیس کے لیے آنکھ، کان اور مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔تقریب میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا اور پی ایس او ٹو آئی جی قاضی فاروق سلطان بھی موجود تھے جبکہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری،سینئر نائب صدر سلمان قریشی،جنرل سیکرٹری افضال طالب،جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ اور گورننگ باڈی کے ارکان فرخ سرمد خواجہ،سید بدر سعید،کامران خان،رابعہ عظمت اور ظہیر شیخ نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے آئی جی پنجاب کی کلب آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور پریس کلب ملک کا ایک تاریخی صحافتی مرکز ہے جہاں قومی اور بین الاقوامی سطح کی اہم شخصیات آتی رہی ہیں،آئی جی پنجاب راو عبدالکریم کی گیسٹ آف آنر کے طور پر شرکت کلب کے لیے باعث اعزاز ہے۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے لاہور پریس کلب آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور میڈیا کے درمیان موثر رابطہ جرائم کے خاتمے،پولیسنگ میں بہتری اور معاشرتی اصلاح کے لیے ناگزیر ہے،پولیسنگ کے نظام میں کرائم رپورٹرز کا تعاون بہتری،اصلاح اور توازن پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔پنجاب پولیس کی سروس ڈلیوری کے حوالے سے آئی جی نے بتایا کہ صوبے کے تقریباً 800 تھانے پولیسنگ کے بنیادی نظام کا اہم حصہ ہیں اور پولیس سٹیشن ہی وہ بنیادی سطح ہے جہاں شہری براہ راست پولیس سے رجوع کرتے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن اور ہدایات کی روشنی میں تھانہ کلچر اور پولیسنگ کے نظام میں بہتری کے لیے مختلف اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیسنگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آٹومیٹڈ سسٹمز،سیف سٹیز کیمروں،ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن،ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی،باڈی کیمز اور پینک بٹن سمیت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں،ان ٹیکنالوجی بیسڈ اقدامات کا مقصد پولیس کی کارکردگی بہتر بنانا، نگرانی کا نظام مضبوط کرنا اور شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کو انصاف اور تحفظ فراہم کرنا ہے،اسی لیے تھانوں میں آنے والے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس سٹیشن کی سطح پر سروس ڈلیوری بہتر بنانا پولیس اصلاحات کا بنیادی ہدف ہے۔سنگین جرائم کی تفتیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سی سی ڈی کا دائرہ کار محدود نوعیت کا ہے اور جن مقدمات کو اس کے سپرد کیا جانا ضروری ہے انہیں متعلقہ دائرہ کار کے مطابق سی سی ڈی کے حوالے کیا جارہا ہے،موثر اقدامات کے نتیجے میں سنگین جرائم میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔پنجاب پولیس میں احتساب کے حوالے سے آئی جی عبدالکریم نے واضح کیا کہ کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ سطح کے افسران تک بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی ہے،سی سی ڈی سمیت پنجاب پولیس کے تمام شعبوں میں خود احتسابی کا شفاف نظام موجود ہے اور بدعنوانی،بدسلوکی یا اختیارات سے تجاوز کی شکایات پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں جائیداد سے متعلق جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ ٹریفک کے نظام میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے،پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نگرانی اور احتساب کے عمل کو مزید موثر بنایا جارہا ہے۔خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کا ذکر کرتے ہوئے آئی جی پنجاب نے کہا کہ ایسے جرائم میں تقریباً 80 فیصد واقعات میں ملزمان متاثرہ افراد کے رشتہ دار یا جان پہچان کے لوگ ہوتے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے تحت بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں فوری کارروائی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔انہوں نے پولیس افسران کی پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے بتایا کہ ایلیٹ اورینٹیشن کورس اے ایس پی کی سطح تک کرایا جاتا ہے جبکہ سب انسپکٹر سے انسپکٹر کے عہدے پر ترقی کے لیے بورڈ بھی جلد منعقد کیا جائے گا۔باڈی کیمز کے منصوبے پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس مقصد کے لیے 12 ارب روپے فراہم کیے ہیں،ایک ہزار باڈی کیمز کی پہلی کھیپ موصول ہوچکی ہے جبکہ مزید تقریباً 500 کیمز بھی جلد فراہم کیے جائیں گے،جس کے بعد مزید کھیپ بھی مرحلہ وار پنجاب پولیس کو دستیاب ہوگی۔آئی جی عبدالکریم نے کہا کہ مستقبل میں ناکوں پر ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس افسران کے لیے باڈی کیم کا استعمال یقینی بنایا جائے گا،اس اقدام سے پولیس اہلکاروں کی کارکردگی،نگرانی اور شہریوں کے ساتھ برتاو کو ریکارڈ کرنے میں مدد ملے گی اور پولیسنگ کے عمل میں مزید شفافیت آئے گی۔

کچے کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس کی موثر کارروائیوں اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ان علاقوں میں امن قائم ہوا ہے،ناجائز اسلحے کے خلاف بھی قانون سازی کی جارہی ہے اور اس حوالے سے سمری اس وقت پراسیس میں ہے۔آئی جی پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیسنگ کے نظام میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ احتساب اور سروس ڈلیوری کو بھی مزید موثر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو پولیس سٹیشن کی سطح پر انصاف اور ریلیف کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔تقریب کے اختتام پر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے آئی جی پنجاب عبدالکریم کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ آئی جی پنجاب نے بھی صدر لاہور پریس کلب اور دیگر عہدیداران کو پنجاب پولیس کی جانب سے سووینئرز پیش کیے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز