لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے نجی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ایک نئی شرط عائد کرتے ہوئے گاڑیوں کا سالانہ فٹنس ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا ہے،جس کے تحت اب صوبے میں پرائیویٹ گاڑی مالکان کو ہر سال اپنی گاڑی کی فٹنس جانچ کروا کر باقاعدہ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا۔نئے قانون پر عمل درآمد نہ کرنے والے گاڑی مالکان کو ابتدائی طور پر چالان کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ خلاف ورزی برقرار رہنے کی صورت میں گاڑی بند بھی کی جا سکتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نئے ضابطے کے تحت پنجاب میں سڑکوں پر چلنے والی نجی گاڑیوں کی فٹنس کو باقاعدگی سے جانچنے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے،جس کا مقصد گاڑیوں کو سڑکوں پر چلنے کے لیے موزوں رکھنے اور ٹریفک و روڈ سیفٹی کے مسائل کو کم کرنا بتایا جارہا ہے۔اس فیصلے کے بعد گاڑی مالکان کے لیے گاڑی کی رجسٹریشن اور دیگر قانونی تقاضوں کے ساتھ سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ کا حصول بھی ایک اضافی لازمی شرط بن جائے گا۔حکام کے مطابق گاڑی مالکان کو مقررہ مدت کے اندر اپنی گاڑی فٹنس ٹیسٹ کے لیے متعلقہ مرکز لے جانا ہوگا،جہاں گاڑی کی مختلف تکنیکی اور حفاظتی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے گا۔فٹنس ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد مقررہ معیار پر پورا اترنے والی گاڑی کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا جبکہ مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑی کے حوالے سے متعلقہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل نہ کرنے کی صورت میں گاڑی مالک کو پہلے مرحلے میں چالان کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم اگر خلاف ورزی برقرار رہی اور گاڑی بغیر مطلوبہ فٹنس سرٹیفکیٹ کے سڑک پر چلتی رہی تو حکام کو اسے بند کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔اس طرح نئی شرط پر عمل درآمد نہ کرنے والے شہریوں کو مالی جرمانے کے ساتھ گاڑی کی بندش جیسے اضافی قانونی اقدام کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب اس نئے نظام کے عملی نفاذ کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ فٹنس ٹیسٹنگ مراکز کی محدود تعداد بھی سامنے آرہی ہے۔صوبے میں لاکھوں گاڑیوں کی فٹنس جانچنے کے لیے اس وقت صرف 13 مراکز موجود ہونے کی وجہ سے شہریوں کو فٹنس ٹیسٹ کرانے اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔اگر بڑی تعداد میں گاڑی مالکان مقررہ مدت کے دوران فٹنس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے مراکز کا رخ کرتے ہیں تو محدود مراکز کے باعث رش،طویل انتظار اور اضافی سفری مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔اس صورتحال میں شہریوں کی جانب سے مزید فٹنس ٹیسٹنگ مراکز قائم کرنے یا موجودہ مراکز کی استعداد بڑھانے کا مطالبہ بھی سامنے آسکتا ہے تاکہ نئے قانون پر موثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔حکومت نے فٹنس سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے سالانہ فیس بھی مقرر کردی ہے،جو گاڑی کی نوعیت کے مطابق 500 روپے سے 2 ہزار روپے تک ہوگی۔اس طرح نئی شرط کے نتیجے میں گاڑی مالکان کو ہر سال فٹنس ٹیسٹ اور سرٹیفکیٹ کے لیے اضافی رقم بھی ادا کرنا ہوگی،جس سے شہریوں کے سالانہ گاڑی اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
نئے قانون کے بعد پنجاب کے گاڑی مالکان کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اپنی گاڑی کی فٹنس سے متعلق مقررہ تقاضے بروقت پورے کریں اور سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں تاکہ دورانِ سفر قانونی کارروائی،چالان یا گاڑی کی بندش سے بچا جاسکے۔حکام کی جانب سے فٹنس سرٹیفکیٹ کی شرط عائد کرنے کا بنیادی مقصد سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی حالت بہتر بنانا اور ایسی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو تکنیکی یا حفاظتی اعتبار سے سفر کے لیے موزوں نہیں تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار فٹنس ٹیسٹنگ مراکز کی دستیابی،شفاف جانچ کے عمل اور شہریوں کے لیے آسان طریقہ کار پر بھی ہو گا۔نئی شرط کے باعث پنجاب کے لاکھوں نجی گاڑی مالکان کو اب ہر سال اپنی گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ کرانا اور مقررہ فیس ادا کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا جبکہ مقررہ تقاضوں کی خلاف ورزی کی صورت میں چالان اور گاڑی بند کیے جانے سمیت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔