Home » بدمعاشی کلچر کے بعد پنجاب میں کرپشن کے خلاف بڑا آپریشن،محکمہ ریونیو اور پولیس سے وابستہ 200 سے زائد افسران ریڈار پر

بدمعاشی کلچر کے بعد پنجاب میں کرپشن کے خلاف بڑا آپریشن،محکمہ ریونیو اور پولیس سے وابستہ 200 سے زائد افسران ریڈار پر

by ahmedportugal
14 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے صوبے میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کارروائیوں کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن کو کرپٹ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کا ٹاسک دے دیا ہے۔
ایگزو نیوزکے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سہیل ظفر چھٹہ کو صوبے میں کرپشن کے خلاف جامع کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے،جس کے بعد ڈی جی اینٹی کرپشن نے مقررہ مدت میں اہداف حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں محکمہ ریونیو اور پولیس سے وابستہ 200 سے زائد ایسے عناصر کی فہرست تیار کی گئی ہے جن پر مبینہ طور پر بدعنوانی میں ملوث ہونے یا غیر قانونی ذرائع سے اثاثے بنانے کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔ تاہم ان افراد کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حتمی انحصار متعلقہ شواہد، تحقیقات اور قانونی تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا۔ذرائع کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن کی ہدایت پر پنجاب کے مختلف سرکاری محکموں میں نگرانی کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے خفیہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ان ٹیموں کے ذریعے سرکاری اداروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی،اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے افسران اور اہلکار خصوصی نگرانی میں ہوں گے جن کے خلاف ماضی میں کرپشن سے متعلق ریکارڈ موجود ہے یا جن کے اثاثے ان کی معلوم آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھانے اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق صوبے میں بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں کو محض ایک یا دو محکموں تک محدود رکھنے کے بجائے تمام سرکاری اداروں میں نگرانی کا نظام فعال بنانے پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ شکایات اور مبینہ کرپشن کے معاملات کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف گرفتاریوں اور مقدمات کے حوالے سے ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھرپور کارروائی کی آزادی حاصل ہوگی تاہم ہر اقدام متعلقہ قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔حکومتی سطح پر اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں بدعنوانی کی روک تھام، شفافیت کو فروغ دینا اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے احتساب کے عمل کو موثر بنانا قرار دیا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں مختلف محکموں سے متعلق مزید معلومات اور شکایات کا جائزہ لے کر کارروائی کا دائرہ بڑھایا جاسکتا ہے جبکہ اینٹی کرپشن حکام کی جانب سے مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کو تیز کرنے کی حکمت عملی بھی زیرِ عمل ہے تاہم فہرست میں شامل کسی بھی فرد کے خلاف الزامات کو اس وقت تک ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک باقاعدہ تحقیقات کے بعد قانونی طور پر ذمہ داری ثابت نہ ہوجائے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز