لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے حال ہی میں 10 ارب روپے کی لاگت والا گلف سٹریم جی 500 طیارہ خرید لیا ہے،جس کے بعد اب اس کے چلانے اور آپریشن کی مد میں مزید 86 کروڑ 15 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز کی سمری تیار کی گئی ہے،یہ رقم وی آئی پی فلائٹ کے پائلٹس اور انجینئرز کی لازمی تربیت، آپریشنل سبسکرپشنز،پروگرامز اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر استعمال ہو گی،طیارے کے لیے اضافی چیف مکینکس اور ایئر کرافٹ مکینک بھرتی کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وی آئی پی طیارے کی تاریخ اور خصوصیات کے مطابق یہ گلف سٹریم جی 500 لانگ رینج لگڑری ایئرکرافٹ ہے، جو سال 2019 میں تیار ہوا۔ یہ ایک ہی پرواز میں 8 ہزار 334 کلومیٹر طے کر سکتا ہے اور 13 مسافروں کے لیے آرام دہ نشستیں فراہم کرتا ہے۔لاہور پہنچنے کے بعد طیارے نے پہلی پرواز 6 فروری کو کی اور پھر مختلف داخلی پروازیں کیں،جن میں لاہور سے کوئٹہ،میانوالی اور سیالکوٹ شامل ہیں۔حالیہ خریداری پر تنقید اس لیے بھی شدید ہے کہ پنجاب میں غربت اور معاشرتی عدم مساوات کی شرح بلند ترین سطح پر ہے۔صوبے میں 11 سال بعد غربت کی بلند سطح،آمدنی میں عدم مساوات کی 27 سالہ بلند سطح اور ایک کروڑ 11 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ 10 ارب روپے تعلیم،صحت اور دیگر عوامی شعبوں میں استعمال ہونے چاہئیں تھے لیکن حکومت نے انہیں وی آئی پی سہولیات پر صرف کرنے کو ترجیح دی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عام شہریوں میں غصہ اور مایوسی بڑھ رہی ہے جبکہ حکومت کے ترجمان ہر ممکن طریقے سے اس خریداری کی جواز پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ غربت،تعلیم اور صحت کے مسائل کے سامنے ایک مہنگے لگژری طیارے کی خریداری کس حد تک مناسب ہے۔یہ اقدام نہ صرف عوامی وسائل کے استعمال میں عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ معاشرتی اور اقتصادی چیلنجز کے درمیان حکومتی ترجیحات پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
پنجاب حکومت کا 10 ارب روپے کا گلف سٹریم ڈرامہ،عوام غربت میں،تعلیم و صحت کی بربادی پر حکومت خاموش
5