Home » حکومت کا تاجروں کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ،مریم نواز نے مارکیٹس 8 بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی

حکومت کا تاجروں کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ،مریم نواز نے مارکیٹس 8 بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی

by ahmedportugal
8 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)صوبہ پنجاب میں کاروباری اوقات کار سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جہاں وزیر اعلیٰ مریم نواز نے مارکیٹس کو رات آٹھ بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی،جس کے بعد حکومت اور تاجر برادری کے درمیان جاری مشاورت کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پیش کی گئی سفارشات پر فوری عملدرآمد سے گریز کرتے ہوئے حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں تاجروں پر مزید دباو ڈالنا مناسب نہیں ہو گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر صوبہ بھر میں مارکیٹس رات دس بجے تک کھلی رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ کاروباری اوقات میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔اس حوالے سے تاجر تنظیموں اور کاروباری نمائندوں سے مسلسل رابطے جاری ہیں تاکہ ایسا متوازن فیصلہ سامنے لایا جا سکے جو معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر توانائی بچت کے اہداف کو بھی پورا کر سکے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی سفارشات میں توانائی بحران اور کفایت شعاری اقدامات کے تحت مارکیٹس جلد بند کرنے کی تجویز شامل تھی تاہم اسے فوری طور پر نافذ کرنے کے بجائے موخر کر دیا گیا ہے۔حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اوقات کار میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کے لیے مزید مشاورت کی جائے گی اور آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے حتمی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

دوسری جانب حکومت نے کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے، جس کے تحت غیر ضروری اخراجات میں کمی اور توانائی کے استعمال کو محدود کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک جانب توانائی بچت کی ضرورت ہے تو دوسری جانب کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنا بھی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، جس کے باعث حکومت کو ایک نازک توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹس جلد بند کرنے کا فیصلہ بظاہر توانائی بحران سے نمٹنے کا ایک موثر ذریعہ ہو سکتا تھا، تاہم اس کے معاشی اثرات،خاص طور پر چھوٹے تاجروں اور یومیہ بنیاد پر کاروبار کرنے والوں پر،خاصے گہرے ہو سکتے تھے۔اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے فوری فیصلہ نہ کرنا ایک محتاط حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے تاہم حتمی فیصلہ تاخیر کا شکار ہونے سے پالیسی میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں معاشی دباو،توانائی کے مسائل اور کاروباری حلقوں کی تشویش ایک ساتھ بڑھ رہی ہے، اور حکومت کے لیے ہر فیصلہ سیاسی و معاشی دونوں حوالوں سے اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز