لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور سہولتوں کی فراہمی میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے فیصلہ کن اور بے مثال احتسابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، وزیر اعلیٰ نے واضح دوٹوک پیغام دیا ہے کہ شہریوں کی حفاظت، بنیادی سہولتوں اور گڈ گورننس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا اور نااہلی، غفلت یا کوتاہی کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے ساتھ تین گھنٹے طویل احتسابی ویڈیو لنک کانفرنس کی، جس میں مختلف اضلاع کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران ناقص کارکردگی، کھلے مین ہولز،آوارہ کتوں کے حملے،خستہ حال انفراسٹرکچر اور قبضہ مافیا کے خلاف بروقت کارروائی نہ کرنے پر افسران کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔لیہ میں کھلے گڑھے میں گر کر دو سالہ بچے کی المناک موت پر وزیر اعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر لیہ حارث حمید کو اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور فوری تبادلے کا حکم جاری کیا۔اسی طرح ڈپٹی کمشنر لیہ کو بھی واقعے پر شدید سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ایسے افسوسناک واقعات پیش آنے کے بعد نہیں بلکہ پہلے ہی روک تھام کے اقدامات ہونا چاہئیں۔ملتان،حافظ آباد اور بہاولنگر میں کتے کے کاٹنے اور مین ہول میں گرنے جیسے واقعات کے تسلسل پر متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے باز پرس کی گئی اور انتظامی غفلت کو بے نقاب کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے اور کھلے مین ہولز و سیوریج گڑھوں کی مرمت کرنا افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے،جس سے کسی صورت فرار ممکن نہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ماتحت افسران اور عملے کے لیے واضح اور قابلِ پیمائش ’کے پی آئیز‘ مقرر کریں جبکہ کمشنرز کو ان ’کے پی آئیز‘ کی بنیاد پر مکمل جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی سیاسی دباو کو خاطر میں لائے بغیر شفافیت،قانون کی عملداری اور گڈ گورننس کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی پر وزیراعلیٰ نے 3607 قبضہ کیسز کے فوری فیصلے پر انتظامیہ کو شاباش دی اور اے ڈی سی آرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو مزید بااختیار بنانے کا حکم جاری کیا تا کہ ناجائز قبضوں کے خاتمے کا عمل مزید تیز ہو سکے۔
شہری سہولتوں اور خوبصورتی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں بڑے بیوٹیفکیشن منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ہر بازار کو منظور شدہ ڈیزائن پیکچر کے مطابق خوبصورت بنایا جائے،بیوٹیفکیشن پلان کی فول پروف مانیٹرنگ کی جائے،ہر سڑک کے ساتھ فٹ پاتھ تعمیر کیے جائیں اور مارکیٹوں میں واضح،یکساں سائن بورڈز نصب کیے جائیں تا کہ شہریوں کو آسانی ہو۔وزیر اعلیٰ نے بازاروں اور مارکیٹوں میں ہریالی بڑھانے،خوشگوار ماحول پیدا کرنے اور خواتین کے لیے محفوظ و آرام دہ سہولتوں پر خصوصی زور دیا۔لاہور کے تاریخی اچھرہ بازار کو خواتین کے لیے جدید،خوبصورت اور آرام دہ بنانے کا اعلان کیا گیا،جہاں معیاری کافی شاپس،پکوڑے اور چاٹ کے خوبصورت سٹالز اور صاف ستھرے نئے ٹائلٹس تعمیر کیے جائیں گے۔اسی طرح قصور میں فوڈ سٹریٹس اور جنرل بس سٹینڈ، شاہ کوٹ،واربرٹن،سانگلہ ہل کے بازار،ننکانہ صاحب کا کلاک ٹاور،پاکپتن میں بابا فرید بازار،برتن بازار اور کنال برج کی بیوٹیفکیشن مئی کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ساہیوال کے پاکپتن بازار،صدر بازار اور برینڈ روڈ کی تزئین و آرائش 31 مئی تک جبکہ اوکاڑہ کے گول چوک بازار،فوڈ سٹریٹس اور پارکنگ ایریاز مئی سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان،عزت اور سہولت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور جو افسر اس ذمہ داری میں ناکام ہوا،اس کے لیے پنجاب میں اب کوئی جگہ نہیں۔