لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے شہریوں کو فراہم کی جانے والی مفت سفری سہولت باقاعدہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے،جس کے تحت کل سے تمام مسافروں سے دوبارہ مقررہ کرایہ وصول کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد صوبے کے بڑے شہروں میں چلنے والے تمام ماس ٹرانزٹ منصوبوں میں کرایہ کا نظام مکمل طور پر بحال ہو جائے گا۔
پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے انچارج عزیر شاہ کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق صرف لاہور تک محدود نہیں ہوگا بلکہ راولپنڈی اور ملتان میں چلنے والے تمام ماس ٹرانزٹ سسٹمز بھی اس میں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین،میٹرو بس،سپیڈو بس اور گرین بس سروس سمیت تمام پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں میں مفت سفر کی سہولت اب ختم کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام کے بعد مسافروں کو پہلے کی طرح باقاعدہ کرایہ ادا کرنا ہوگا اور ٹکٹنگ سسٹم کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے نفاذ کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ انتظامی تیاریوں کو بھی حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے اپریل 2026 میں مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے یہ مفت سفری سہولت متعارف کرائی تھی۔اس اقدام کا مقصد شہریوں کو عارضی معاشی ریلیف فراہم کرنا تھا،جسے ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے شروع کیا گیا تاہم بعد ازاں اس میں توسیع بھی کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق اس سکیم سے روزانہ تقریباً 8 لاکھ شہری مستفید ہو رہے تھے،جن میں اورنج لائن ٹرین کے قریباً 2 لاکھ 90 ہزار جبکہ میٹرو بس سروس کے ایک لاکھ سے زائد مسافر شامل تھے۔دیگر بس سروسز پر بھی بڑی تعداد میں شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق مفت سفری سہولت کے خاتمے سے شہریوں پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر وہ افراد جو روزانہ سفر کرتے ہیں تاہم حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ مالی دباو کے باعث اس عارضی ریلیف پیکج کو جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر عوامی سطح پر ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کی بحث شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ شہریوں کی جانب سے حکومتی اقدام پر ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔