اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں مون سون بارشوں کے ایک اور متوقع اسپیل کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)نے 16 اگست کی رات سے 21 اگست تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا الرٹ جاری کردیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق مختلف علاقوں میں تیز ہواوں،گرج چمک اور بارش کا امکان ہے جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کے باعث اربن فلڈنگ، برساتی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی،مری،گلیات،جہلم،چکوال،تلہ گنگ، اٹک،سیالکوٹ،نارووال،منڈی بہاوالدین،گجرات،گوجرانوالہ،حافظ آباد اور وزیرآباد میں بارش متوقع ہے۔لاہور،قصور،اوکاڑہ،شیخوپورہ،ننکانہ صاحب،سرگودھا،خوشاب، میانوالی اور نورپور تھل بھی بارشوں سے متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے وسطی اور شمالی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے جبکہ بعض مقامات پر بارش کی شدت زیادہ ہونے کا امکان ہے۔فیصل آباد،جھنگ،ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ،بھکر،ساہیوال،پاکپتن،بہاولنگر، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں 20 اور 21 اگست کو بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 17 سے 20 اگست کے دوران راولپنڈی، گوجرانوالہ،گجرات،سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شدید بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔اس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو پیشگی اقدامات اور ہنگامی ردعمل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے دوران شہری سیلاب کے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی تیاری یقینی بنانا ہوگی۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا کہ موسلادھار بارش کے دوران برساتی نالوں میں اچانک پانی کے بہاو میں اضافہ ہوسکتا ہے،جس کے باعث فلیش فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کمزور اور نشیبی علاقوں میں خصوصی نگرانی رکھنے کی ہدایت کی ہے۔مری،گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بھی بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے والے شہریوں اور سیاحوں کو موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آزاد کشمیر میں بھی 16 سے 21 اگست کے دوران بارشوں کا امکان ہے۔ وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، باغ، کوٹلی اور میرپور میں تیز ہواوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔خیبرپختونخوا میں 17 سے 21 اگست کے دوران بارش کا سلسلہ رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔پشاور،دیر،چترال،سوات،ملاکنڈ، مردان اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ کرک،ٹانک،لکی مروت،ڈیرہ اسماعیل خان،بنوں اور وزیرستان میں 20 اور 21 اگست کو بارش متوقع ہے۔اسلام آباد،راولپنڈی،مری،گلیات اور بالائی پنجاب میں بھی 16 سے 21 اگست کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔لاہور،گوجرانوالہ،سیالکوٹ،سرگودھا اور میانوالی سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے جبکہ بالائی پنجاب کے بعض مقامات پر موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔گلگت بلتستان میں 18 سے 21 اگست کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔دیامر،استور،غذر، سکردو،ہنزہ،گلگت،گانچھے اور شگر میں بھی بارش کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے تاہم موسیٰ خیل، بارکھان،ژوب،قلات اور خضدار میں 17 سے 20 اگست کے دوران بارش ہوسکتی ہے۔
سندھ کے بیشتر علاقوں میں بھی گرم اور مرطوب موسم برقرار رہنے کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے نے محکمہ صحت،آبپاشی،تعمیرات و مواصلات،لوکل گورنمنٹ،لائیو سٹاک اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جاسکے۔ضلعی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حساس اور نشیبی علاقوں کی نگرانی بڑھائیں،برساتی نالوں اور نکاسی آب کے نظام کی صورتحال کا جائزہ لیں اور ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کیلئے ضروری مشینری اور عملہ دستیاب رکھیں۔پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں،آندھی اور گرج چمک کی صورت میں کھلے مقامات پر جانے سے احتیاط کریں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورت میں محفوظ مقامات کو ترجیح دیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خصوصاً بوسیدہ اور کچے مکانات میں رہائش رکھنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی کارروائیوں اور شہریوں کے انخلا کے لیے تیار رہنے کا بھی کہا گیا ہے۔متوقع مون سون سپیل کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے الرٹ جاری کیے جانے کے بعد اب توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ شدید بارش کی صورت میں شہری سیلاب،فلیش فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرات سے کس حد تک موثر انداز میں نمٹا جاسکے۔