لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب بار کونسل نے لاء گیٹ ٹیسٹ میں کامیابی حاصل نہ کرنے والے 777 وکلاء کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس معطل کر دیے ہیں۔بار کونسل کے فیصلے کے بعد متعلقہ وکلاء کی عدالتوں میں قانونی پریکٹس بھی متاثر ہو گی۔
پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کورونا وبا کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں تقریباً 3400 وکلاء کو لاء گیٹ ٹیسٹ کے بغیر عارضی طور پر لائسنس جاری کیے گئے تھے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ بعد ازاں ان وکلاء کو 2022 سے 2023 کے دوران لازمی لاء گیٹ ٹیسٹ پاس کرنے کی ہدایت کی گئی۔متعدد وکلاء نے ٹیسٹ کامیابی کے رزلٹ کارڈ جمع کرا دیے تاہم 777 وکلاء مقررہ مدت میں مطلوبہ ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہے۔پنجاب بار کونسل کے مطابق لاء گیٹ ٹیسٹ پاس نہ کرنے والے وکلاء کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ قواعد و ضوابط کے تحت کیا گیا ہے جبکہ ان وکلاء کا ریکارڈ تمام سیشن ججز اور متعلقہ بار ایسوسی ایشنز کو ارسال کیا جا رہا ہے تاکہ عدالتی سطح پر بھی آگاہی موجود ہو۔ذرائع کے مطابق لائسنس معطلی کا مقصد وکالت کے شعبے میں پیشہ ورانہ معیار،قانونی اہلیت اور نظام انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانا ہے۔بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقررہ قانونی شرائط پوری کیے بغیر کسی بھی شخص کو وکالت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بغیر ٹیسٹ لائسنس لینے والے وکلاء کے لیے بڑا جھٹکا،پنجاب بار کونسل کا 777 لائسنس معطل کرنے کا اعلان
44