اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے معطل کیے گئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا اعلان کر دیا۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن ارکان اپنے لیڈر کی بات نہیں سنتے تو آئین مجھے ریفرنس بھجوانے کا حق دیتا ہے، اور سابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کا فیصلہ اس ضمن میں واضح ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کا رویہ افسوسناک ہے، اور انہوں نے 37 انتخابی عذرداریاں داخل کرنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ 2014 میں بھی دھاندلی کے الزامات لگا کر نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔
انہوں نے ایوان کے تقدس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلانا میری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہنگامہ آرائی کو خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ایوان میں حکومتی جماعت کو برتری حاصل ہے۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ ایوان میں کسی کو گالم گلوچ کرنے کا حق نہیں ہے اور غنڈہ گردی کسی رکن اسمبلی کا سیاسی حق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی کو کسی صورت مچھلی منڈی نہیں بننے دیں گے اور پی ٹی آئی کا بیانیہ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے۔