Home » بچوں میں سوشل میڈیا استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان،پنجاب اسمبلی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاونٹس پر پابندی کی قرارداد منظور

بچوں میں سوشل میڈیا استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان،پنجاب اسمبلی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاونٹس پر پابندی کی قرارداد منظور

by ahmedportugal
8 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر موثر قانونی پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، جس میں وفاقی حکومت سے کم عمر صارفین کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موثر عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرانے اور بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے جامع قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قرارداد استحکام پاکستان پارٹی کی رکن پنجاب اسمبلی سارہ احمد نے ایوان میں پیش کی،جسے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔قرارداد میں بچوں کی جسمانی،ذہنی،نفسیاتی اور اخلاقی نشوونما کے تحفظ کو ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کے تحفظ کے لیے روایتی حفاظتی اقدامات کے ساتھ آن لائن ماحول کو بھی محفوظ بنانا ناگزیر ہوگیا ہے۔قرارداد کے متن میں موقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا کا بے قابو اور غیر نگرانی شدہ استعمال کم عمر بچوں کو متعدد سنگین خطرات سے دوچار کررہا ہے۔ان خطرات میں سائبربلنگ،آن لائن جنسی استحصال،نامناسب اور نقصان دہ مواد تک رسائی،ذہنی دباو اور دیگر نفسیاتی و سماجی مسائل شامل ہیں۔ایوان نے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس کے حوالے سے موثر قانونی پابندی عائد کی جائے تاکہ کم عمر صارفین کو ڈیجیٹل دنیا میں موجود ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھا جاسکے۔

قرارداد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں فعال تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی موثر تصدیق کا نظام نافذ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ کم عمر بچوں کی جانب سے عمر کی پابندیوں کو نظرانداز کرکے اکاونٹس بنانے کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی بچوں کے تحفظ سے متعلق مقررہ معیارات پر عملدرآمد کا پابند بنانے کی سفارش کی گئی۔اس میں مطالبہ کیا گیا کہ پلیٹ فارمز نقصان دہ اور نامناسب مواد کی فوری روک تھام کے لیے موثر نظام قائم کریں اور نابالغ صارفین کے لیے زیادہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کریں۔قرارداد کے مطابق صرف قانونی پابندی عائد کرنا کافی نہیں بلکہ بچوں، والدین اور اساتذہ کو بھی ڈیجیٹل خطرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔اس مقصد کے لیے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو ڈیجیٹل آگاہی،سائبر سیفٹی اور محفوظ انٹرنیٹ استعمال سے متعلق خصوصی مہمات شروع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ایوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ والدین اور اساتذہ کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کم عمر صارفین سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات، جعلی اکاونٹس،آن لائن ہراسانی،نامناسب مواد اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے خود کو محفوظ رکھنے کے قابل ہوسکیں۔

قرارداد میں بین الاقوامی سطح پر کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی حوالہ دیا گیا۔متن کے مطابق آسٹریلیا، فرانس،چین اور امریکا کی مختلف ریاستوں سمیت متعدد ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے عمر کی پابندیاں یا دیگر ضوابط متعارف کرائے جاچکے ہیں۔پنجاب اسمبلی نے موقف اختیار کیا کہ عالمی سطح پر سامنے آنے والے ان رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی کم عمر بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے موثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ قرارداد کے مطابق بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں،تعلیمی اداروں اور والدین کے درمیان مربوط تعاون ضروری ہے۔

ایوان نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ایسا مربوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا جس کے ذریعے بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق قوانین پر موثر عملدرآمد،شکایات کے ازالے اور نقصان دہ مواد کی بروقت روک تھام کو یقینی بنایا جاسکے۔قرارداد میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ بچوں کو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور کرنے کے بجائے انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے عمر کی تصدیق،پلیٹ فارمز کی ذمہ داری،والدین کی آگاہی اور ریاستی نگرانی کو ایک جامع پالیسی کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی سے قرارداد کی متفقہ منظوری کے بعد اب اس معاملے میں وفاقی حکومت،پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے قانون سازی اور ضابطہ کار وضع کرنے کی سفارش سامنے آگئی ہے،جس پر عملدرآمد کے لیے آئندہ اقدامات وفاقی سطح پر کیے جانے ہوں گے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز