لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی ایپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں صوبے میں مجموعی سیکورٹی صورتحال،امن و امان کے اقدامات اور عوامی تحفظ سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں آپریشن ”غضب للحق“ میں پاک فوج کی کامیابی پر شکریہ اور خراج تحسین پیش کیا گیا جبکہ پاک سرزمین کے دفاع میں جان کا نذرانہ دینے والے کرنل گل فراز اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
ایگزو نیوز کے مطابق ایپکس کمیٹی پنجاب کے اجلاس میں صوبے میں امن و امان کے امور،اداروں کے درمیان موثر اشتراک کار اور حکومت پنجاب کے پیشگی سیکورٹی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مشترکہ اقدامات، اشتراک کار اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں خاص طور پر کچہ ایریا کی سیکورٹی،انسداد اغوا اور امن قائم رکھنے کے اقدامات پر بھی بات کی گئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور اس کی قیادت پر فخر ہے، ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ایران میں جاری جنگ کے بعد پنجاب میں ممکنہ ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لیے فوری طور پر امن و امان برقرار رکھنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔مظاہرین کے ساتھ پولیس کے برتاو پر بھی رہنمائی دی گئی،جہاں لاہور پولیس نے مظاہروں کو پرامن طریقے سے کنٹرول کیا اور افطاری کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب میں اینٹی ڈرون یونٹس متحرک کیے جا رہے ہیں اور ہر ضلع میں اینٹی ڈرون سیل قائم کیے جائیں گے۔کچہ آپریشن کی کامیابی پر پاک فوج اور سندھ پولیس کا شکریہ ادا کیا گیا اور بتایا گیا کہ 3.5 ماہ سے کچہ میں اغوا برائے تاوان کے کسی کیس کی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔کچہ کے لیے 10 ارب روپے کے ترقیاتی پراجیکٹس،سیف سٹی،تعلیم و صحت کے منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں۔کچہ میں 1,500 اہلکار تعینات ہوں گے اور بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ‘اپنا کھیت اپنا روزگار’ کے تحت بے زمین کسانوں کو زرعی اراضی دی جائے گی۔سماج دشمن عناصر کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت نہ ہو۔تاریخ میں پہلی مرتبہ 74 ہزار امام مساجد کے لیے باعزت ماہانہ اعزازیہ مقرر کیا گیا۔بسنت کے موقع پر بائیک سیفٹی راڈ پر مکمل عملدرآمد نے قانون کی پابندی کی عکاسی کی جبکہ لاہور میں محفوظ بسنت کے انعقاد سے عوام کو خوشی منانے کا موقع ملا۔پنجاب میں سموگ فری اقدامات جاری ہیں اور سکول یا ہوٹل بند کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔رمضان میں ہر تحصیل میں مخیر حضرات کے اشتراک سے افطاری فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ’رمضان نگہبان پیکج‘ کے تحت 4.2 لاکھ خاندانوں کو دس ہزار روپے کا بے مثال امدادی پیکج دیا گیا۔حکومت نے پی سی ایس آر کے ذریعے مستند ڈیٹا تیار کیا اور جن لوگوں کو امداد نہیں ملی، انہیں 24 گھنٹے میں رقم فراہم کی جا رہی ہے۔ہر تحصیل میں رمضان نگہبان اور سہولت بازار سے سستی اشیاء دستیاب کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ساڑھے 10 ہزار سے زائد غیر قانونی افغان باشندے نکالے جا چکے ہیں اور کچہ میں روزانہ 10-12 غیر قانونی افغان افراد کا انخلا کیا جا رہا ہے۔چینی باشندوں کی حفاظت کے لیے سخت ایس او پیز نافذ کیے گئے ہیں اور وہ اب صرف پولیس کے ہمراہ نقل و حرکت کریں گے۔لاہور میں ٹریفک منیجمنٹ کے لیے چینی طرز کی آرٹیفشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ پنجاب میں قانون و انصاف کے قیام اور لا اینڈ آرڈر کے کنٹرول کے حوالے سے حکومتی اداروں کے درمیان شاندار اشتراک کار قابل تحسین ہے۔کور کمانڈر لاہور سمیت دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور سیکورٹی کے تمام اقدامات کی تفصیلات فراہم کیں۔