لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پنجاب میں تعلیمی شعبے میں ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت 40 لاکھ طلبہ کے داخلے کا تاریخی ہدف مکمل کر لیا گیا ہے،جسے حکام صوبے کی تعلیمی تاریخ کی ایک غیر معمولی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔اس پیش رفت نے نہ صرف تعلیمی رسائی میں نمایاں اضافہ کیا ہے بلکہ انتظامی اور پالیسی سطح پر بھی اس ماڈل کو عالمی مثالوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور موثر نظام کے طور پر سامنے لایا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن نے صوبے میں تعلیمی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 40 لاکھ طلبہ کے داخلے کا ہدف عبور کر لیا ہے،جسے حکام ایک تاریخی سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اس کامیابی کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کا نتیجہ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ 2002 سے 2024 تک 23 سال کے دوران سرکاری تعلیمی نظام میں 23 لاکھ بچوں کا اضافہ ہوا جبکہ صرف 2024 سے 2026 کے مختصر عرصے میں 40 لاکھ طلبہ کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے،جو تعلیمی شعبے میں غیر معمولی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تعلیم کے مطابق پنجاب میں 13 ہزار سے زائد سکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شامل کیا گیا ہے،جس کے باعث صوبہ دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی شراکتی ماڈل بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس نظام نے نہ صرف تعلیمی رسائی کو بہتر بنایا بلکہ سکولوں کے معیار میں بھی نمایاں بہتری لائی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب نے امریکا کے چارٹر سکول سسٹم کو بھی طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے پیچھے چھوڑ دیا ہے،جہاں 38 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ان کے مطابق یہ کامیابی تعلیمی اصلاحات کے تسلسل اور موثر پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔رانا سکندر حیات نے مزید بتایا کہ اس ماڈل کے تحت ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں جبکہ 30 ہزار سے زیادہ افراد کو سکولوں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے بجٹ میں 250 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،جس سے تعلیمی نظام کو مزید وسعت اور استحکام ملا ہے۔