Home » ججز تبادلوں پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل، عدلیہ پر ’تیز وار‘ قرار، بڑا آئینی تنازع کھڑا ہو گیا

ججز تبادلوں پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل، عدلیہ پر ’تیز وار‘ قرار، بڑا آئینی تنازع کھڑا ہو گیا

by ahmedportugal
5 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ججز کے حالیہ تبادلوں پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے عدلیہ پر ’تیز وار‘ اور آزاد عدالتی نظام کے خلاف اقدام قرار دے دیا ہے۔ پارٹی قیادت، بشمول بیرسٹر گوہر علی خان اور بیرسٹر علی ظفر نے اس معاملے کو ایک بڑے آئینی تنازع کی شکل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز کے تبادلوں کا حالیہ فیصلہ نہ صرف غیرشفاف ہے بلکہ آئینی اصولوں سے بھی متصادم دکھائی دیتا ہے، جس پر قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سینئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ججز کے حالیہ تبادلوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے آزاد عدلیہ کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ججز کا یہ تبادلہ اکثریت سے ہوا، ججز کے تبادلہ آزاد عدلیہ کے تصور کیخلاف ہے تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہے ججز کو تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے ججز کے تبادلہ سے قبل رولز بننے چاہیے تھے 26 آئنی ترمیم کے بعد رولز بنانے کا پہلے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا ججز کو تبادلہ کرنے کسی فرد کا کام نہیں ہے عدلیہ کے ججز نے جب حلف لیا تھا تو آئین میں لکھا تھا ججز کو مرضی کے بغیر تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ان کے مطابق ملک بھر کی ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہونے کے باوجود تبادلوں کا فیصلہ غیرضروری اور عدالتی نظام کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے،ججز کا موقف سنے بغیر پسند نا پسند پر تبادلہ عدلیہ پر حملہ ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو رات انجکشن کیلئے ہسپتال لایا گیا،عمران خان کی صحت کو لائیٹ نہ لیا جائے،عمران خان اور بشری بی بی کا علاج ذاتی معالجین سے کرایا جائے،بہترین علاج معالجہ عمران خان بشری بی بی کا بنیادی حق ہے،آج بھی خاندان کی عمران خان سے ملاقات نہین ہو سکی، ایسے ملک نہیں چل سکتا کہ مقبول لیڈر کو دیوار میں چن دیں۔

اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ آج 28 اپریل  2026 آزاد عدلیہ کے لئے افسوس ناک دن ہے،آج عدلیہ پر تیز وار کیا گیا ہے،جسٹس ارباب طاہر خادم حسین سومرو کے تبادلہ کا معاملہ ڈراپ کردیا گیا،جسٹس بابر ستار کو پشاور اور جسٹس محسن کیانی کو لاہور جبکہ جسٹس ثمن رفعت کا سندھ تبادلہ کر دیا گیا،کسی بھی جج کا بلاجواز تبادلہ آئین کے منافی اور اس عمل کو بطور ’سزا‘ استعمال کیا جا رہا ہے،جو نہ صرف عدالتی وقار بلکہ انصاف کے نظام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ججز کے تبادلوں کی واضح وجوہات سامنے لائی جائیں،بصورت دیگر اسے بدنیتی پر مبنی اقدام تصور کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ججز کی ٹرانسفر کے لیے واضح قواعد و ضوابط کا ہونا ضروری تھا،خصوصاً 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس حوالے سے رولز بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ ججز نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا،کمیشن میں جسٹس ارباب جسٹس خادم کے تبادلہ کا ایجنڈا واپس لے لیا گیا،جوڈیشل کمیشن میں تین ججز کے تبادلہ کا ایجنڈا زیر غور آیا،ججز کےتبادلہ کی کوئی وجہ ہونی چاہئے،ججز کا تبادلہ بد نیتی سے کیا جائے تو آئین اجازت نہیں دیتا،ججز کے بلاوجہ تبادلہ کا کوئی جواز نہیں، تحریک انصاف کا موقف ہے کہ ججز کا بلاوجہ تبادلہ نہیں کر سکتے،آئین بلاوجہ تبادلہ کی اجازت نہین دیتا تبادلہ کے اس انداز کو سزا کے طور استعمال کیا جا سکتا ہے

پی ٹی آئی رہنماوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ججز کی رضامندی کے بغیر تبادلے نہیں ہونے چاہئیں اور ایسے فیصلے آزاد عدلیہ کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس اقدام کی بھرپور مخالفت کرے گی اور اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھایا جائے گا۔اسی موقع پر انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو ذاتی معالجین کے ذریعے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز